11 August 2020 - 10:49
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443422
فونت
پوری عرب دنیا کو سات روز میں تسخیر کرنے والے اسرائیل کو ۱۸ سال مسلسل مسلحانہ جدو جہد کے ساتھ اکیسویں صدی کے چڑھتے سورج کے ساتھ ہی اپنی سرزمین سے قابض صہیونی افواج کو نکال کر پاک کرنے والی طاقت کا نام حزب اللہ ہے ۔

لبنان کی تازہ صورتحال

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پوری عرب دنیا کو سات روز میں تسخیر کرنے والے اسرائیل کو ۱۸ سال مسلسل (۱۹۸۲ سے ۲۰۰۰ تک) مسلحانہ جدو جہد کے ساتھ اکیسویں صدی کے چڑھتے سورج کے ساتھ ہی اپنی سرزمین سے قابض صہیونی افواج کو نکال کر پاک کرنے والی طاقت ۔

جولائی 2006 میں ایک بار پھر اسی اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ 33 روزہ جنگ میں شکست کا مزہ چکھانے والی پاور ۔

اپنی مزاحمتی پالیسی کے مطابق پوری عرب دنیا کو بیداری سے سرشار کر کے امریکی اسرائیلی پٹھو عرب حکمرانوں کے خلاف حوصلہ بخشنے والی حکمت ۔

اور 2011 سے 2018 تک ایک بار پھر سرزمین شام پر عالمی استعمار کے فقط اسرائیلی تحفظ کی خاطر فرقہ وارانہ مذہبی فسادات اور خود ساختہ خلافت کے قیام کے خواب کو چکنا چور کرنیوالی عجیب و غریب باشعور با بصیرت مجاھدت ۔

جی ہاں میری مراد پورے خطے میں یورپ، امریکہ اسکے عرب اتحادی اور اسرائیل کے مفادات کو ناکام بنانے والی عسکری، مذہبی، سیاسی اور خالص لبنانی تنظیم حزب اللہ ہے کہ جس کو اس دفعہ اس کی خطے میں تمام کامیابیوں کی سزا بڑے م خطرناک انداز میں دی جا رہی ہے ۔

لبنان گذشتہ تقرینا ایک سال سے اقتصادی اور سیاسی بحران کا شکار ہے اس سر زمین پر پہلے امریکی سعودی نواز حکومت تھی جس کی وجہ سے انتشار پھیلانا استعمار کی کامیاب حکمت عملی کے خلاف تھا لیکن اب جب کہ محب وطن حکومت برسراقتدار آئی ہے تو اب یہ کام آسان ہو گیا ہے ۔

بیروت دھماکے میں بندرگاہ پر گذشتہ 6 سال سے پڑا دھماکہ خیز مواد مواد امونیم نائٹریٹ گزشتہ استعمار نواز حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اتنے بڑے سانحہ کا سبب بن گیا ۔

اس سے قبل امریکہ کی طرف سے لبنان پر اقتصادی پابندیاں لگانا اقتصادی بحران میں شدت لانے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے ۔

پھر لبنان کی 80فیصد اقتصادی ضروریات پوری کرنے والی بیروت بندرگاہ کا مکمل تباہ ہو جانا اور گندم کے ذخائر کا خاتمہ لبنان کی اقتصادی حالت کے بارے بہت کچھ بیان کر رہی ہے ۔

اب جب کہ ساری دنیا لبنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہے ایسے میں لبنان کا مسیحا وہ بن کر آیا ہے جس کے اپنے ملک فرانس میں گذشتہ کئی مہینوں سے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور فرانسیسی صدر کے خلاف مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں ۔

مغرب پرست تو تمام ایشیائی ممالک میں مفت میں میسر آ جاتے ہیں ہمارے ہاں بھی میرا جسم میری مرضی والے کافی سارے ہیں. اب جب کہ فرانسیسی صدر ماکرون لبنان کی داد رسی کرنے پہنچاتو زخمی لبنان کی مرحم پٹی دیکھیے کیسے کی جارہی ہے؟  ۔

1-بیروت میں بیٹھ کر لبنانی حکومت کو یورپ امریکی مفادات کے تحفظ نہ دینے کی صورت میں بحران یافتہ ملک کو مزید اقتصادی پابندیوں کی دھمکی. بدمعاشی دیکھو ۔

2-وسط بیروت میں لبنانیوں کے جنازوں پر کھڑے ہو کر انتہائی بے حیائی اور فریبانہ انداز میں عربی، غربی عبری لبنانی یورپ پرست طبقہ کو حکومت میں تبدیلی کی یقین دہانی کرانا کہ جس کے نتیجے میں 57 ھزار لبنانیوں نے باقاعدہ دستخت کر کے فرانس سے دوبارہ اپنے ملک پر قبضے کی درخواست کی ہے (یہ ایسے ہی ہے جیسے آج ہم برطانوی وزیر اعظم سے کہیں کہ دوبارہ پاکستان اور ھندوستان کو اپنے قبضے میں لے کر ہمیں بچا لو) ۔

3-اس شیطانی نمائندہ کے لبنان جیسی مقاومتی سرزمین سے نکلتے ہی اتنا بڑا زخم دیکھنے والا بیروت ایک بار پھر مظاہرین اور لبنانی سکیورٹی فورسز کے درمیان میدان جنگ بن چکا ہے. اور آخری خبریں آنے تک کئی سرکاری نیم سرکاری عمارتوں، وزارت خارجہ، مرکزی بینک وغیرہ پر مظاہرین نے دھاوا بول کر بعض کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور بعض کو فوج نے کنٹرول سنبھال کر خالی کرا لیا ہے ۔

4-سید مقاومت، عزت لبنان سید حسن نصر اللہ اور شہید قاسم سلیمانی بیروت کے سائن بورڈز پر لگے بڑے بڑے پینا فلیکس کی بے حرمتی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔

5- حسب معمول بیروت میں امریکی سفارت خانے نے سب سے پہلے پر تشدد مظاہروں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے ۔

اس سارے کھیل کا اصل ہدف لبنان میں اقتصادی بحران کے بہانے موجودہ لبنان دوست حکومت اور حزب اللہ کو بدنام کرنا اور اس کے ذریعے مقاومتی پالیسی کی کامیابیوں کی بجائے ان کو اس تمام بحران کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے تاکہ حزب اللہ کی عوامی مقبولیت میں کمی آئے اور وہ اسرائیل کی بجائے اپنے ہی ملک میں الجھ کر رہ جائے ۔

تاہم سلام ہے فرزند غدیر سید حسن نصر اللہ کی بصیرت کو کہ جنہوں نے اپنے گزشتہ خطاب میں ایسی بصیرت کا مظاہرہ کیا اور باقاعدہ لبنان میں موجود بحران کیلیے کسی بھی قسم کی خارجی امداد کا خیر مقدم کر کے خارجی دشمن میڈیا کی ساری فائرنگ جو سید حسن کے متوقع خطاب سے امید لگائے بیٹھے تھے انکی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا. جب سید نے کہا ۔

1-دھماکے کی تمام سیاسی، مذہبی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر شفاف تحقیقات کا خیر مقدم کریں گے ۔

2- بیروت بندرگاہ پر حزب اللہ ۔
کے میزائلوں کی موجودگی کا جھوٹے پروپیگنڈا کا منہ توڑ جواب دیا ۔

3-دھماکہ کو انسانی المیہ اور سانحہ ظاہر کرتے ہوئے ایک الہی انسان کی طرح اظہار ہمدردی اور دلسوزی کی ۔

4-تمام لوگوں کو بیروت اور لبنان کی مدد کی اپیل کی ۔

5- اپنے بارے میں بیروت بندرگاہ کی بجائے کہا کہ ہمارے پاس تو بیروت بندرگاہ کی نسبت اسرائیلی حیفا بندر گاہ کے بارے زیادہ معلومات ہیں( یہ حقیقت میں اس دھماکے کے فورا بعد اس وائرل کلپ کا جواب تھا جس میں سید حیفا بندرگاہ کی تباہی کا تذکرہ کر رہے ہوتے ہیں) اور دشمن اس کلپ سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ذریعہ عام غرب پرست لبنانی کو یہ باور کرانا چاہ رہا ہوتا ہے کہ حزب اللہ کے حیفا کو تباہ کرنے سے قبل انہوں نے ہماری بیروت بندرگاہ تباہ کر دی تاکہ لبنانی لوگ حزب اللہ کی مقاومتی پالیسی سے خود اپنے ملک کے اندر سے مخالفت کریں ۔

بہرحال شیطانی قوتوں کا کام ہی یہی ہے کہ الہی اور غدیری طبقے کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف رہیں اور خدا کی جماعت حزب اللہ بھی ان میدانوں میں اپنا لوہا منوا چکی ہے جیسے رفیق حریری کیس میں حزب اللہ نے ان کو شکست دے تھی اسی طرح بیروت دھماکے میں اور اس کی تحقیقات اور اس سے پنپنے والی سیاست کو بھی ناکام کر کے دکھائے گی ان شاء اللہ کیونکہ اس خدا کی جماعت کے ساتھ تائید امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف انکے نائبین مراجع و رہبر معظم انقلاب، علماء حقہ اور دنیا کے تمام مظلومین کی دعائیں ہیں اور امریکہ، عرب اتحاد سب ناکم ہو کر رہیں گے البتہ اسرائیل ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کی وجہ سے ریبر معظم کے 25 سال والی بات کو وقت سے قبل عملی جامہ پہنا کر اپنا خاتمہ چاہنے لگا ہے ۔

 ایس. ایم کاظمی

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬