15 August 2020 - 21:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443463
فونت
حجت الاسلام حسن رضا حیدری :
کوپاگنج ھندوستان کے امام جمعہ نے کہا : ولی فقیہ اپنے خصوصی اختیارات کے ذریعہ سماج میں پائے جانے والے مسائل کا حل نکالتا ہے اور سماج و معاشرے کو اختلاف و انتشار سے بچاتا ہے ۔

کوپاگنج ھندوستان کے امام جمعہ حجت الاسلام حسن رضا حیدری نے رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے ساتھ گفتگو میں ولایت فقیہ کو ہر زمانے میں ضروری لیکن اس زمانہ میں ہر زمانہ سے زیادہ لازم و ضروری جانا ہے اور کہا : ولایت فقیہ وہ عظیم مقام ہے کہ جس کے سلسلہ میں آئمہ اطہار علیہم السلام کی طرف سے تاکید ہوئی ہے ۔

انہوں نے ولایت فقیہ کے سلسلہ کو غدیر سے جانا ہے اور بیان کیا : ولی فقیہ درحقیقت غدیر کی پاسبان ہے جس نے امام عصر عج کے ظہور تک اس عظیم الہی نعمت کی پاسبانی کرنی ہے ۔

حسن رضا حیدری نے بیان کیا : ولایت فقیہ کا نظریہ کوئی نیا تو نہیں ہے لیکن ائمہ علیہم السلام کے دور اور غیبت کبریٰ کے بعد سے اسلامی دنیا کا حقیقی اسلام سے دور رہنے کی وجہ سے اس الھی نظریہ کو عوام انوکھا سمجھنے لگی ہے ۔ لیکن یہ نظریہ بالکل ولایت رسول اللہ اور ولایت امام معصوم علیہ السلام کی طرح غیبت کبریٰ میں ولایت فقیہ عادل ہے، عادل فقیہ کی ولایت بالکل ایسے ہی  امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے اس وقت بیان ہوئی ہے جس دن  سے غیبت کبری نے شروع ہونا قرار پایا تھا ۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : امت مسلمہ کو نظام امامت کی صورت میں ایک الہی سیاسی نظام عطا کیا گیا ہے کہ جو تقریباً اڑھائی سو سال بعد آخری امام حضرت ولیعصر عج نے اپنی غیبت کبری کے آغاز کی خبر دی اور انہیں اپنی بظاہر عدم موجودگی میں ایسے فقہاء کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا جو خدا کے مطیع اور نفسانی خواہشات کے مخالف ہوں۔ یوں نظام مرجعیت کا آغاز ہو گیا۔

حوزہ علمیہ خیرآباد کے استاد نے ولایت فقیہ کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے چاہے وہ عبادی ہوں یا سیاسی ہوں یا سماجی ہوں ۔ سماج و معاشرے میں کچھ ایسے امور ہوتے ہیں جن کو عام آدمی انجام نہیں دے سکتا کیوں کے اس کے لئے اس فن کی مہارت لازم ہے جیسے قضاوت وغیرہ یا کچھ امور ایسے ہوتے ہیں جن کا وارث نہیں ہوتا ہے اس لئے غیبت امام زمانہ عج کے زمانہ میں اس طرح کے امور کو حل کرنے کے لئے اسلام نے ایک نظریہ پیش کیا ہے جس کو ولایت فقیہ کہا جاتا ہے ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : ولی فقیہ اپنے خصوصی اختیارات کے ذریعہ ان مسائل کا حل نکال سکے اور سماج و معاشرے کو اختلاف و انتشار سے محفوظ رکھ سکے ۔

کوپاگنج ھندوستان کے امام جمعہ نے بیان کیا : انسان کے لئے فتنہ کے زمانہ میں حق و باطل کی شناخت سخت جانا ہے اور بیان کیا : فتنہ میں صحیح راستے کی پہچان ولی فقیہ ہے اگر کوئی شخص فتنہ کے وقت خود کو ولی فقیہ سے جدا کر لے اور ولی فقیہ کے مقابلہ میں آ جائے یا اس سے پیچھے رہ جائے تو اس کا انجام انحراف ہوگا ۔

حجت الاسلام حسن رضا حیدری نے کہا : ولی فقیہ کے حکم پر عمل کو فتنہ سے رہائی کا راستہ جانا ہے اور وضاحت کی : اگو کوئی ایسے حالات میں اپنی زبان و آنکھ کو ولی فقیہ کے ساتھ کر لے اور اپنے کان کو ان کے فرمان پر قرار دے تو وہ آسانی سے راستہ مشخص کر سکتا ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬