07 September 2020 - 09:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443656
فونت
حجت الاسلام علامہ ناصر عباس جعفری :
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے کہا کہ مذہب کی آڑ میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کے مذموم مقاصد کو مذہبی ہم آہنگی سے شکست دی جائے گی۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی کابینہ کا اہم اجلاس مرکزی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام علامہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں ملک کے دوسرے صوبوں سے آئے ہوئےکابینہ کے اراکین سمیت دیگر مرکزی رہنما بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مذہب کی آڑ میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کے مذموم مقاصد کو مذہبی ہم آہنگی سے شکست دی جائے گی۔ ملک دشمن عناصرکے مذموم عزائم کو اتحاد بین المسلمین کے آزمودہ ہتھیار کے ذریعےمل کرپسپا کریں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی کوشش پورے ملک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔مختلف مکاتب فکر کے درمیان اختلافی امور کو ہوا دے کر انتشار پیدا کرنے والے ملکی و قومی سلامتی اور امن کے دشمن ہیں۔عالم اسلام کے تمام مسالک کے درمیان فروعی اختلافات صدیوں سے موجود ہیں جن پر علمی اور صحت مندانہ مباحث برہان و استدلال کے ساتھ جاری رہتی ہیں۔جو عناصر علم و عمل کی بجائے شدت اور ہٹ دھرمی کی زبان استعمال کرتے ہیں وہ ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے کہا دین اسلام کے تمام مسالک تمام تر فروعی اختلافات کے باوجود اخوت و رواداری کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دشمن ہمارے سماجی رویوں اورمعاشرتی اقدار کو نشانہ بنا کر دین محمدی کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے ہر تُلا ہوا ہے تاکہ ہر گلی کوچے میں نفرتوں کی آگ بھڑکائی جا سکے۔یہ وقت جذبات کی بجائے حکمت و تدبر کا متقاضی ہے۔ہمیں عالمی حالات کا بھی درک ہے اور کم ظرف دشمنوں کے شاطرانہ حربوں سے آگاہی بھی ہے۔اپنے عقیدے کو چھوڑو نا اور دوسرے کے عقیدے کو چھیڑو نا کے بہترین اصول پر عمل امن و سکون سے زندگی بسر کرنے کابہترین حل ہے۔

انہوں نے کہا اہل تشیع اور اہلسنت برادران مل کر ان تکفیری عناصر کا ر استہ روکیں گے جنہوں نے ملک میں شدت پسندی کی راہ ہموار کی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں اس ملک کو ستر ہزار سے زائد لاشیں اٹھانا پڑیں۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬