‫‫کیٹیگری‬ :
17 July 2013 - 19:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5657
فونت
رسا نیوز ایجنسی - حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے حق طلبی، صداقت، اخلاص و تقوی سچے مسلمان کی نشانیاں شمار کی اور کہا: اگر معاشرہ میں سچائی کا دور و دورہ رہے تو معاشرہ گلستان بن جائے گا ۔
حضرت آيت الله مکارم شيرازي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے اٹھویں ماہ مبارک رمضان کو اپنی سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی نشست میں جو حرم مطھر حضرت معصومہ قم (س) میں زائرین و مجاویرین کی شرکت میں منعقد ہوا سورہ مبارک احزاب کی دیگر آیات کی تفسیر کی ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے آیت شریفہ «یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ إِن کُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وَزِینَتَهَا فَتَعَالَیْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیلًا وَإِن کُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنکُنَّ أَجْرًا عَظِیمًا» کی تشریح کی ۔


انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلام کی تین بنیادیں ہیں؛ اصول وعقائد، احکام و فروع اور اخلاقیات کہا: اگر یہ تینوں ارکان کامل ہوں تو ہمارا دین کامل ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ناقص ہو تو ھم مشکلات سے روبرو ہوں گے ۔   


انہوں نے بیان کیا: بعض افراد فقط جب مشکلات میں گھرتے ہیں تبھی ائمہ معصومین علیھم السلام سے متوسل ہوتے ہیں اور مشکلات سے نجات پانے کے بعد دوبارہ اپنے راستہ پر چل پڑتے ہیں جو ھرگز مناسب اور صحیح راستہ نہیں ہے ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مذکورہ آیت شریفہ کا لہجہ ھرگز انبیاء الھی کی بیویوں سے مخصوص نہیں ہے کہا: مسلمانوں کی کئی قسمیں ہیں بعض قبائلی مسلمان تو بعض قومی مسلمان تو بعض کاغذی مسلمان ہیں اور اسلام کی حقیقت سے بے بہرہ ہیں  ۔


اس مرجع تقلید نے سچے مسلمان کی تشریح میں رسول اسلام(ص) سے منقول حدیث بیان کی اور کہا: ظاھری مسلمان ہونا کافی نہیں ہے بلکہ سچا ایمان انسانوں کے دلوں میں داخل ہونا چاہئے اور انسان کا عمل بھی ایمان کی تصدیق کرے ۔


قران کریم کے اس نامور مفسر نے کہا: ایک دوسری روایت میں ختمی مرتبت حضرت محمد(ص) نے تاکید کی کہ ایمان کی حقیقت حاصل نہیں ہوسکتی مگر یہ کہ دوستی اور دشمنی میں خدا ملحوظ نظر رہے اور اس سلسلہ میں قومی، قبائلی، مسلکی اور خاندانی روابط کی دخالت نہ ہو ، حضرت نے ایک اور حدیث میں صداقت کو ایمان کی بنیاد و اساس جانا ہے ۔


حوزہ علمیہ قم کے اس نامور استاد نے یاد دہانی کی: اگر معاشرہ میں سچائی کا دور و دورہ رہے تو معاشرہ گلستان بن جائے گا ، اگر حکومت، ملت کے ساتھ اور ملت ، حکومت کے حق میں صادقانہ رویہ اپنائے تو تمام مشکلات ختم ہوجائیں گی  ۔


و نیز انہوں نے امام جعفر صادق(ع) سے منقول حدیث کے ائینہ میں سخت حالات میں بھی حق کو باطل پر مقدم کرنا ایمان کی نشانی شمار کیا اور کہا : حضرت امیرالمؤمنین(ع) نے بھی ایک حدیث میں عمل میں اخلاص ایمان کی نشانی جانا ۔ کمترین ملاوٹ سبب بنتی ہے کہ انسان کے اعمال مورد قبول درگاہ خداوند متعال نہ قرار پائیں ، اگر ھمارے عمل میں یہ نشانیاں موجود ہیں تو ھمیں خدا کا شکر ادا کرنا چائے اور اگر یہ علامتیں نہیں ہیں تو پھر ماہ مبارک رمضان کو اپنی اصلاح اور ہدایت کا موقع جانیں ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬