‫‫کیٹیگری‬ :
11 August 2013 - 17:25
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5791
فونت
رہبر معظم انقلاب اسلامی:
رسا نیوز ایجنسی - رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے ملک کے اعلی حکام اور اسلامی ممالک کے سفراء سے ملاقات میں مخلتف میدانوں میں ترقی ایرانی قوم کا حصہ شمار کرتے ہوئے کہا: ایمان اور اتحاد کو قومی استقامت کے دو اھم عوامل جانا ۔
رھبر معظم


رسا نیوز ایجنسی کی رھبر معظم انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید سعید فطر کی مناسبت سے ملک کے اعلی حکام، اسلامی ممالک کے سفراء اور عوام کے بعض مختلف طبقات کے ساتھ ملاقات میں  بعض اسلامی ممالک میں اغیار کی جناب سے پیدا کردہ اختلاف  ، بحران ، حوادث کی طرف اشارہ کیا  اور دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایمان اور اتحاد کو دو اہم عوامل قراردیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کے فضل و کرم ، ایرانی عوام کے باہمی اتحاد اورجذبہ ایمان کی بدولت  دشمن کی طرف سے اختلافات کے زہرآلودہ تیروں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوا اور ایرانی قوم اللہ تعالی کے وعدوں پر اعتماد اور حسن ظن کے ساتھ ترقیات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور ترقیات ایرانی قوم کی تحریک کا حصہ بن گئی ہیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عید سعید فطر کی مناسبت سے قوم کے ہر فرد کو مبارکباد پیش کی  اور ایک ماہ تک روزہ داری ، عوام کے مختلف طبقات کی طرف سے عبادی اعمال کی انجام دہی، اور ملک میں ذکر و توسل کے وجود کو اللہ تعالی کی رحمت اور برکت کے نازل ہونے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ضروری ہے کہ محترم حکام اور تازہ نفس حکام  ملک کی ذمہ داری کو اپنے دوش پر لیکر استقامت اور پائداری کے ساتھ  اہداف کو آگے بڑھائیں گے اور وہ اپنی سنگین ذمہ داری کے دوران اللہ تعالی پر اعتماد ، ذکر اور توسل کے سلاح سے بھر پور استفادہ کریں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک کے اعلی حکام ، اہم ذمہ داریوں، سنگین امور اور عوام کے عمومی حقوق کو اللہ تعالی کی مدد اور نصرت کے ذریعہ اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں اور کوئی ایسی مشکل باقی نہیں رہ سکتی جو قابل حل نہ ہو۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اللہ تعالی کے لطف و کرم اور ہدایت کے حصول  نیز اللہ تعالی کی مدد کے حصول کے لئے اپنی تمام کوششوں اور توانائیوں کو میدان میں لانے کو ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: سستی ، کاہلی، غفلت  اور کام نہ کرنے سے اللہ تعالی کی رحمت اور مدد کو حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس سلسلے میں ملک کے تمام انسانی اور مادی وسائل ، جسمانی طاقت و توانائی اور فکر و تدبیر سے استفادہ کرنا چاہیے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد کچھ سالوں میں  اللہ تعالی کے وعدوں پر بعض افراد کے عدم اعتماد اور مایوسی  سے دوچار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انہی سالوں میں متعدد بار اللہ تعالی کی نصرت ایرانی قوم  کے شامل حال رہی  ، اور آج بھی ملک و قوم ماضی کے تمام ادوار کی نسبت فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران روز بروز ترقی کی جانب گامزن ہیں اور ترقی ایرانی قوم کی حرکت کا حصہ بن گئی ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں  مغربی ایشیا اور شمال افریقہ کے علاقوں میں بعض اسلامی ممالک کو درپیش بڑی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ مشکلات اکثر باہر سے اور اغیار کی جانب سے مسلط کردہ مشکلات ہیں اور اس بحران سے نجات پانے اور چھٹکارا حاصل کرنے کا علاج یہ ہے کہ خود قومیں اپنے علماء، دانشوروں اور عقلاء کی حکمت عملی کے مطابق  فیصلہ کریں اور عوام میں بے چینی ، بحران  اور اختلاف پھیلانے والے اغیار کی مداخلت اور کوششوں کا سد باب کیا جائے ۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےدشمن کی طرف سے ایرانی قوم میں اختلاف ڈالنے کے زہر آلودہ تیروں کے غیر مؤثر واقع ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران میں مختلف مذہبی، اور سیاسی گروہ، گوناگوں اقوام  اتحاد، یکجہتی ، ہمدردی اور ہمدلی کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں اور ایرانی قوم کے اتحاد و اتفاق اور ایمان کے سامنے مذہبی اور سیاسی اختلاف ڈالنے کے سلسلے میں دشمن کی تمام سازشیں اور کوششیں ناکام اور غیر مؤثر واقع  ہوگئی ہیں۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کے زہر آلودہ تیروں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اللہ تعالی پر ایمان اور اتحاد کو  قوموں کی استقامت اور پائداری کے دو اہم عوامل قراردیا اور اعلی حکام ، سیاستدانوں اور دینی ماہرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:آپ اللہ تعالی پر ایمان اور اتحاد کو جتنا ممکن ہوسکے اتنا ہی مضبوط و مستحکم بنانے کی تلاش و کوشش کریں  اے کاش مشکلات میں گرفتار اسلامی ممالک کے سیاسی اور ثقافتی حکام بھی اگر اس نکتہ پر دگنی توجہ کرتے تو انھیں دردناک حوادث کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صدر حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حسن روحانی نے عید سعید فطر کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور عید فطر کو استقامت و پائداری اور تہذیب نفس کی عید قراردیا اور اس مہینے کی حرمت کی پاسداری کرنے پر پوری قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: رمضان اتحاد کا مہینہ ہے جس میں تمام مسلمانوں کا ایک ہی مناسک کے ساتھ بڑا گہرا اور مضبوط  رابطہ ہے۔

 

صدر حسن روحانی نےاس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو غیر علاقائی ممالک کی جانب سے جو مشکلات درپیش ہیں اور جن کی وجہ سے مسلمان رنج و غم میں ڈوبے ہوئے ہیں  یہ عید سعید ان مشکلات سے نجات حاصل کرنے اور آزاد ہونے کا باعث قرار پائے۔

 

ڈاکٹر روحانی نے رمضان المبارک کے مہینہ کو اللہ تعالی کی بڑی مغفرت اور رحمت واسعہ  کا مہینہ قراردیتے ہوئےکہا: ہمیں اس مہینہ کی برکت سے دلوں کو پاک کرنا چاہیے اور محبتوں  کو فروغ دینا چاہیے۔

 

صدر حسن روحانی نےقومی طاقت و قدرت کے اضافہ کی ضرورت  اور قانون پر عمل کو قومی اتحاد و انسجام کے لئے اہم قراردیا اوراس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ جلد حاصل کرکے گیارہویں حکومت، ایرانی قوم کی خدمت کا جلد آغاز کردےگی۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬