‫‫کیٹیگری‬ :
17 September 2013 - 19:00
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5943
فونت
آیت ‌الله نوری همدانی :
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت‌ الله نوری همدانی نے اس تاکید کے ساتہ کہ شام میں کفر اور اسلام کے ساتہ جنگ ہے کہا : سامراجی دنیا بہانہ اور تبلیغ کے ذریعہ ملک شام میں جمہوریت قائم کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کی جمہوریت عراق اور افغانستان کے جنگ میں سب لوگوں کے لئے روشن ہے ۔
آيت ‌الله نوري همداني


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت ‌الله حسین نوری همدانی مرجع تقلید نے آج امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی روز ولادت کی مناسبت سے ان سے ملاقات کی غرض سے آئے مومنین کی خدمت میں امام رضا علیہ السلام کی ولادت کی مبارک باد پیش کرتے ہو بیان کیا : بحار الانوار میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمیہ زهرا (س) ، حضرت علی (ع) اور امام رضا (ع) کو اپنے جسم کا ٹکڑا کہا ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے تاکید کی : پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے جسم کا ٹکڑا طوس میں دفن ہوگا ، جو شخص بھی مشکلات و غم میں گرفتار ہو اگر اس کی زیارت کرتا ہے تو اس کی تمام مشکلات اور غم دور ہو جائے نگے اور جو گنہگار بھی اس کی زیارت کرے گا اس کی گناہ بھی بخش دی جائے گی ۔

مرجع تقلید نے اس بیان کے ساتہ کہ آئمہ (ع) کی تاریخ میں بے شمار درس موجود ہے وضاحت کی : امام حسین علیہ السلام کی ہجرت ایک جہادی ہجرت تھی اور امام رضا علیہ السلام کی مدینہ سے طوس کی طرف ہجرت ثقافتی و سیاسی ہجرت تھی ۔

حضرت آیت ‌الله نوری همدانی نے اس اشارہ کے ساتہ کہ امام رضا علیہ السلام نے مامون کی دھمکی کو فرست کے مواقع میں بدل دیا بیان کیا : امام رضا علیہ السلام اپنی ثقافتی و سیاسی ہجرت میں شیعت کی تبلیغ اور شیعت کو فروغ دی ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور استاد نے اس بیان کے ساتہ کہ امام رضا علیہ السلام کے سلسلہ میں بنائی گئی سیریل نے اچھی طرح حق مطلب ادا کی ہے ، کہا : امام رضا علیہ السلام دوسرے مذاہب کے ساتہ اپنے مناظرہ میں ان کے دین اور ان کے مذاہب کی کتابوں کے ذریعہ گفت و گو کی اور یہ بہت سخت ہے کہ اس مسئلہ کو اچھی طرح پیش کی جائے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتہ کہ امام رضا علیہ السلام کی ہجرت اسلام کے لئے موثر خدمات تھیں بیان کیا : امام رضا علیہ السلام اس ہجرت میں حقیقی اسلام کی حقانیت اور شیعت کی دفاع کی ہے ۔

مرجع تقلید نے جہاد اور ثقافت کو اسلام کی محافظت کے لئے دو بازو جانا ہے اور کہا : اس زمانہ میں ثقافتی مسئلہ پر خاص توجہ دی جائے تا کہ اس ثقافت کے ذریعہ دشمنوں کی سازش کا مقابلہ کیا جا سکے ۔

حضرت آیت ‌الله نوری همدانی نے اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے شام میں رونما ہو رہے حادثہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : ملک شام میں دو گروہ کے درمیان جنگ نہیں ہے بلکہ کفر اور اسلام کے درمیان جنگ ہے ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬