26 October 2013 - 17:36
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6074
فونت
رسا نیوز ایجنسی – مشھور اسکالر اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر ڈاکٹر کلب صادق نقوی نے اپنے ارسال کردہ اخباری پیغام میں لکھنو کے مسلمانوں کو اتحاد و یکجہتی دعوت دیتے ہوئے کہا : شھر میں شیعہ و سنی فساد پورے ملک میں شھر لکھنو کی بدنامی کا باعث ہے ۔
ڈاکٹر کلب صادق


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، ھندوستان کے مشھور اسکالر اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر ڈاکٹر کلب صادق نقوی نے اپنے ارسال کردہ اخباری پیغام میں شھر لکھنو کے مسلمانوں کو اختلاف اور جھکڑے سے گریز اور اتحاد کی دعوت دی  ۔


انہوں ںے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ میں کچھ دنوں پہلے بہار کے دار الحکومت شھر پٹنہ کے ایک مشھور ومعروف دینی ادارے امارت شرعیہ کے اہل سنت علماء سے ملا تو سب نے مجھ سے سوال کیا کہ مولانا شیعہ اور سنی تو بہار و جھار کھنڈ اور ملک کے دیگر علاقہ میں بھی رہتے ہیں وہ ایک دوسرے  کے ساتھ پر امن زندگی بسر کرتے ہیں اور کہیں بھی فساد نہیں ہوتا صرف لکھنو ہی میں کیوں شیعہ اور سنی فساد اور دنگا ہوتا ہے ؟


ڈاکٹر کلب صادق نقوی نے دین اسلام کو دین امن و سلامتی بتاتے ہوئے کہا: رسول اسلام جب مکہ سے مدینہ کی طرف ھجرت کرگئے تو وہاں کے دو بڑے قبیلہ اوس اور خزرج  میں طویل عرصہ سے خون و خونریزی و جنگ جاری تھی مگر رسول اسلام نے مدینہ پہونچ کر انہیں اسلام کا پہلا پیغام جو دیا وہ یہ تھا کہ اپ نے ان دونوں قبیلوں کے درمیان مصالحت کرادی ۔


انہوں نے مزید کہا: اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم کو فساد و خونریزی سے بحد نفرت تھی ، اپ کی بعثت کا مقصد ہی لوگوں کو ایک دوسرے جوڑنا اور ملانا تھا ، لیکن اج انہیں کا کلمہ پڑھنے والے کچھ نا سمجھ لوگ بات بات پر ایک دوسرے کو جانی اور مالی نقصان پہونچانے سے بھی نہیں جھجھکتے اس بڑھ کر اور کیا بد نصیبی ہو سکتی ہے ۔


انہوں ںے واضح طور سے کہا: جب تک دونوں فرقوں کے درمیاں کچھ مفاد پرست مولوی موجود رہیں گے اس وقت تک ان حالات پر قابو نہیں پایا جاسکتا ، یہ فساد عوام کے جذبات سے کھلواڑ کرکے ماحول خراب کردیتا ہے لیکن جب فساد ہوجاتا ہے تو سبھی فساد کرانے والے اپنے اپنے گھروں میں دبک جاتے ہیں  ۔ 


ڈاکٹر کلب صادق نقوی نے تاکید کی : ابھی تک کسی فساد میں کوئی سنی یا شیعہ مولوی نہیں مارا گیا بلکہ فقط غریب عوام ہی اس فساد کا نشانہ بنی لھذا دونوں فرقوں کے لوگوں کو ان فسادی لوگوں کے گھناونے ارادوں سے بہت ہوشیار رہنا چاہئے  ۔


انہوں ںے کہا: قران کی روشنی میں ہر انسان کا جان و مال اوراس کی عزت و ابرو کا احترام ضروری ہے ، کسی اختلاف کی بناء پر کسی پر کفر کے فتوے لگانا اور ایک دوسرے کے گھروں کو جلانا اور مالی نقصان پہونچانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے نیز اخرت میں اس فتنہ و فساد کی نہایت دردناک سزا ہے ۔ 


مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر یہ بیان کیا : اگر کوئی سنی کسی شیعہ کا گھر جلائے یا کوئی شیعہ کسی سنی کا گھر جلائے وہ اپنے اپ کو لاکھ شیعہ یا سنی سمجھے وہ مسلمان کہلانے کے لائق نہیں ہے کیوں کہ قران و حدیث کی روشنی ایک حقیقی مسلمان کسی بھی بے گناہ انسان پر ظلم و زیادتی نہیں کرسکتا ۔


انہوں نے کہا: جن لوگوں نے پچھلے رمضان میں ایک دوسرے کا گھر جلایا یا مالی نقصان پہونچایا ان کی دینی اور ایمانی ذمہ داری ہے کہ نقصان اٹھانے والوں کی ہر ممکن مدد کریں ، یعنی سنی کی ذمہ داری ہے کہ شیعوں کو مدد کریں اور شیعوں کی ذمہ داری ہے کہ سنیوں کی مدد کریں ۔


ڈاکٹر نقوی ںے کہا: سنی محلوں میں رہنے والے شیعوں کی حفاظت کرنا سنیوں کی ذمہ داری ہے اور شیعہ محلوں میں رہنے والے سنیوں کی حفاظت شیعوں کی ذمہ داری ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬