28 January 2017 - 11:52
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425966
فونت
لبنان کے سنی عالم دین:
علمائے استقامت یونین کے سربراہ نے دھشت گردانہ جنایتوں کے مقابل سکوت اور خاموشی کو دھشت گردی کا حصہ بتایا ۔
شیخ ماهر حمود

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علمائے استقامت یونین کے سربراہ شیخ ماهر حمود نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں کہ جو صیدائے لبنان کی مسجد قدس میں کثیر نماز گزاروں کی شرکت میں منعقد ہوا ، اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دنیا ابھی تک دھشت گرد نامی مرض سے آگاہ نہیں ہوسکی ہے کہا: ہم واضح طور سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکا ، غاصب صھیونیت اور تیل سے مالا مال بعض دیگر ممالک دھشت گردوں کی حمایت میں مصروف ہیں ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ہم اس بات کی ھرگز تفسیر نہیں کر سکتے کہ آخر ایک جوان کس طرح موت کی جانب قدم بڑھاتا ہے اور بے گناہوں کو قتل کر کے خود کو بہشتی ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے کہا: اس جوان کو کس طرح سمجھایا جاسکتا ہے کہ وہ اس طرح کی بدترین جنایتوں کے ذریعہ ھرگز بہشت میں نہیں جاسکتا ، یہ بالکل ویسے ہی کہ جیسے کہ یہ بات سمجھ سے بہت دور ہے کہ جنایتوں کی بنیادوں پر استوار حکومت کس طرح اسلامی ہوسکتی ہے اور کس طرح لوگوں کے قتل عام کے نظریات کی ترویج کو اسلامی رنگ و روپ دیا جاسکتا ہے ۔

لبنان کے اس سنی عالم دین نے تاکید کی کہ اس مشکل کا حل دشوار ہے مگر خود اسے مشکل کے عنوان سے قبول کرنا خود اس کے حل کا زمینہ فراھم کرتا ہے ۔

شیخ ماهر حمود نے بیروت کے علاقے الحمراء میں خود کش بمبار کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام گروہوں کی جانب سے خودکش دھماکوں کی مذمت کے شاھد نہیں تھے ۔

انہوں نے مزید کہا: میڈیا کو ان جنایتوں کو بہتر طریقے سے پیش کرنا چاہئے تھا ، اسلام کے نام پر انجام پانے والی اس جنایت کی مذمت میں مختلف نشستیں اور اجلاس منعقد ہونے چاہئے تھے ، ان دھشت گردوں کی مجازات میں تخفیف کے قائل افراد حتی اس سے بھی بالاتر کہ تمام جنایت کاروں کو معاف کرنے کا مطالبہ کرنے والے تو مکمل طور سے خاموش رہے ہیں ۔

علمائے استقامت یونین کے سربراہ نے کہا: دھشت گردی کی بیماری فقط دھشت گردوں اور ان کے حامیوں سے مخصوص نہیں ہے ، بلکہ دھشت گردانہ جنایتوں کے مقابل خاموشی اختیار کرنے والے مسلمان بھی دھشت گردی کا حصہ شمار کئے جاتے ہیں اور ان کے سیاسی اھداف و مقاصد میں شریک ہیں ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۴۴۱

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬