
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعیت علماء پاکستان نیازی کے زیراہتمام قومی ختم نبوت کانفرنس سے خطاب میں عمائدین اہلسنت نے واضح کیا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت پر غیر متزلزل یقین کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا، اہلبیت عظام اور صحابہ کرام خاتم الانبیا کے آخری نبی ہونے کے عقیدہ کے محافظین رہے، جن میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ سر فہرست ہیں، جنہوں نے مسیلمہ کذاب سمیت 5 منکرین ختم نبوت کیخلاف جنگ کرکے ثابت کر دیا کہ اسلام کے بنیادی عقائد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، ختم نبوت عقیدہ ہے، جو تبدیل نہیں ہو سکتا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، وہ اسلامی شعار استعمال نہیں کر سکتے۔ جامعہ مسجد مین مارکیٹ تاج باغ لاہور میں منعقد ہونیوالی کانفرنس سے قائد اہلسنت معصوم حسین نقوی، صاحبزادہ پیر سید محی الدین محبوب کاظمی، پیر حبیب عرفانی، ڈاکٹر امجد حسین چشتی، علامہ مفتی مصطفی اشرف رضوی، علامہ غلام رسول اویسی، پیر اختر رسول قادری، پیر غلام کبریا چشتی، مفتی علامہ طاہر تبسم اور دیگر نے بھی عقیدہ ختم نبوت کے مختلف تاریخی اور اسلامی پہلووں پر روشنی ڈالی۔
صدارتی خطاب میں پیر معصوم نقوی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی پہرہ داری ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی وفات کے بعد مختلف 5 افراد نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا جبکہ برصغیر میں جھوٹی نبوت کے فتنے کا موجد مرزا غلام احمد قادیانی تھا، جس کیخلاف تمام مکاتب فکر نے جدوجہد کی، اس حوالے سے قائدین اہلسنت علامہ شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالستار خان نیازی کی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے، جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا، مسلمانوں نے قادیانیت کا دنیا بھر میں سماجی بائیکاٹ کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے یہ فتنہ اب گالی بن چکا ہے۔ صدارتی خطبے میں پیر سید محی الدین محبوب حنفی قادری کاظمی نے کہا کہ ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم معلم و مقصود کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تحفظ ختمِ نبوت کیلئے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؒ نے جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف جہاد کیا اور معرکہ یمامہ میں 700 صرف حفاظِ قرآن صحابہ کرام نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کرکے عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کیا، صحابہ کرام تابعین عظام، اتباع التابعین، ائمہ مجتہدین متکلمین ، مفسرین، محدثین، اہل بحث و مناظرہ، علماء اور صوفیاء کا عقیدہ ختم نبوت پر اجماع ہے۔ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ شریعت مطہرہ کی رُو سے کافر، مرتد، زندیق اور واجب القتل ہے۔ پیر مصطفی اشرف رضوی کا کہنا تھا کہ ختم نبوت عقیدہ ہے، جو تبدیل نہیں ہو سکتا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، وہ اسلامی شعار استعمال نہیں کر سکتے۔
پیر اختر رسول قادری نے کہا کہ حکومت نے منتخب اداروں کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے حلف نامے میں تبدیلی کی جو جسارت کی وہ فوری پکڑی گئی، حکومت نے عاشقان مصطفی کے دباو میں اسے واپس بھی لے لیا ہے مگر ابھی تک 7۔ بی اور سی کو اصل شکل میں بحال نہیں کیا گیا۔ جس پر قومی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر امجد چشتی نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت نواز ی چھوڑ کر اسلام اور آئین کے مطابق امور مملکت چلائے جائیں۔ راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائی۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰