13 November 2017 - 21:33
News ID: 431794
فونت
انصر مہدی:
طلباء رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ رانا ثناءاللہ نے ابھی ۱۴ بے گناہوں کے خون کا حساب دینا ہے، ۱۰۰ سے زائد افراد کو زخمی کیا گیا اور جب تحقیقاتی کمیشن نے حقائق پر منبی رپورٹ تیار کی تو اسے دبا لیا گیا۔
متحدہ طلبہ محاذ اور آئی ایس او  کے اراکین

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ طلبہ محاذ اور آئی ایس او کے مرکزی صدر انصر مہدی، اسلامی جمعیت طلبہ کے نثار احمد، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سہیل چیمہ، مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے ضیاء الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں نے لاہور میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ سابق مرکزی صدر متحدہ طلبہ محاذ اور سابق مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ناصر عباس شیرازی کے جبری اغواء پر طلبہ برادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے، پنجاب حکومت کے اس گھناؤنے ظلم کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ ناصر عباس شیرازی طلبہ برادری کے سرگرم سرپرست ہیں، وہ اتحاد بین المسلمین کی عملی کاوشوں، پاکستان دشمن عناصر کیخلاف، دہشتگردی کے ناسور کے خاتمہ اور ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے سرگرم عمل رہے ہیں اور رانا ثناءاللہ کیخلاف بھی انہوں نے اس لیے پٹیشن دائر کی کہ وہ عدلیہ جیسے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

متحدہ طلبہ محاذ کے صدر انصر مہدی نے کہا کہ ناصر شیرازی کا اغواء بنیادی انسانی حقوق کے منافی اور آئین پاکستان سے روگردانی ہے۔ تمام طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ناصر شیرازی کی گمشدگی میں پنجاب حکومت ملوث ہے، اگر سید ناصر عباس شیرازی کو 16 نومبر کو بازیاب نہ کیا گیا تو طلبہ برادری احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی اور ان کی بازیابی تک تمام طلبہ تنظیمیں آئی ایس او پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ناصر شیرازی کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالت میں باضابطہ طور پر پیش کیا جانا چاہیے، سزا و انصاف کا فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے، ملک کے کسی بھی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر کسی بھی شہری کو اس طرح حراست میں رکھے۔

متحدہ طلبہ محاذ کے رہنماؤں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی اس پامالی کا فوری نوٹس لیا جائے اور فوری بازیابی کے احکامات صادر کیے جائیں۔

صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انصر مہدی کا کہنا تھا کہ طلباء برداری ابھی تک پُرامن ہے، اگر 16 نومبر کو ناصر شیرازی کو پیش نہ کیا گیا تو پھر ہم مجبور ہوں گے کہ سڑکوں پر آئیں اور پنجاب حکومت کا پورا سسٹم جام کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ وزیر قانون ہوتے ہوئے قانون کو پامال کر رہے ہیں۔

مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے رہنما ضیاء الرحمان نے کہا کہ رانا ثناءاللہ نے ابھی 14 بے گناہوں کے خون کا حساب دینا ہے، 100 سے زائد افراد کو زخمی کیا گیا اور جب تحقیقاتی کمیشن نے حقائق پر منبی رپورٹ تیار کی تو اسے دبا لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہی وزارت قانون بہت جلد رانا ثناءاللہ کے گلے کا پھندے بنے گی اور شریف برادران کا اگلہ ٹھکانہ ان شاء اللہ اڈیالہ جیل ہی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے جو کہ تشویشناک ہے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬