16 March 2018 - 10:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435351
فونت
اعجاز ہاشمی:
جے یو پی کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ دہشتگرد پوری دنیا کے امن کے دشمن ہیں، جنہیں مختلف ایجنسیوں نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے تیار کیا، جس سے پاکستان کو سخت جانی، مالی اور سفارتی نقصان ہوا لیکن افواج پاکستان اور پولیس کی شہادتوں کے باعث ملک امن کا گہوار بننے جارہا ہے، پھر رائیونڈ واقعہ نے سکیورٹی خدشات پیدا کرنے کیساتھ سکیورٹی اداروں کو جگا دیا ہے کہ وہ اپنے انتظامات پر نظرثانی کرتے ہوئے مزید اقداما ت کریں۔
پیر اعجاز احمد ہاشمی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر پیر اعجاز احمد ہاشمی نے رائیونڈ میں دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بزدلانہ واقعہ کو 20 اور 21 مارچ کو ہونیوالے پی ایس ایل کو ناکام بنانے کی سازش قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردوں کا پہلے بھی مقابلہ کیا، اب بھی کریں گے۔ تبلیغی اجتماع کے موقع پر دہشتگردی سے دشمن دوہرا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا، عوام میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا اور پی ایس ایل کیلئے بھارتی ایجنڈے کو پروان چڑھانا تھا تاکہ بین الاقوامی کرکٹ کو روکا جا سکے، سکیورٹی فورسز نے قربانیاں دے کر زیادہ جانی تقصان سے بچا لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے شہدا کی مغفرت اور سوگوار خاندان سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں، دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو منظر عام پر لایا جائے اور سکیورٹی کو بھی سخت کیا جائے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونیوالے اقدامات پر مکمل طور پر عمل کرکے مکمل طور پر دہشتگردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ دہشتگرد پوری دنیا کے امن کے دشمن ہیں، جنہیں مختلف ایجنسیوں نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے تیار کیا، جس سے پاکستان کو سخت جانی، مالی اور سفارتی نقصان ہوا لیکن افواج پاکستان اور پولیس کی شہادتوں کے باعث ملک امن کا گہوار بننے جارہا ہے، پھر رائیونڈ واقعہ نے سکیورٹی خدشات پیدا کرنے کیساتھ سکیورٹی اداروں کو جگا دیا ہے کہ وہ اپنے انتظامات پر نظرثانی کرتے ہوئے مزید اقداما ت کریں۔

واضح رہے کہ جمعرات 15 مارچ کو رائے ونڈ تبلیغی اجتماع کے قریب ہونے والے خود کش حملے میں 9 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے ۔ طالبان نے اس حملے کہ ذمہ داری قبول کر لی تھی ۔/۹۸۸/ ن۹۴۰
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬