‫‫کیٹیگری‬ :
25 June 2018 - 13:53
News ID: 436382
فونت
سیمینار میں مقررین نے کشمیر کے تعلیمی نظام میں اخلاقیات کے فقدان اور فارسی زبان کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
سیمینار  ھند و ایران فارسی ادب میں اخلاقی عناصر  /کشمیر

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ فارسی کے زیر اہتمام تین روزہ بین الاقوامی سیمینار اختتام پذیر ہوا، جس میں 120 ملکی و غیر ملکی دانشوروں، اسکالروں اور زبان و ادبیات سے وابسطہ شخصیات نے شرکت کرکے تحقیقی مقالے پڑھے۔ تفصیلات کے مطابق کشمیر یونیورسٹی کے ابن خلدون آڈیٹوریم میں ’’ہند و ایران فارسی ادب میں اخلاقی عناصر‘‘ کے عنوان سے تین روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد ہوا، جس کا افتتاح کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خورشید اقبال اندرابی نے کیا، جبکہ پروفیسر اندرابی کے علاوہ ہندوستان، افغانستان، ایران، پاکستان اور قزاکستان کے  نامور اسکالروں، دانشوروں اور ادبیات سے وابسطہ عظیم شخصیت نے شرکت کرکے تحقیقی مقالے پیش کئے۔

دانشگاہ کشمیر شعبہ فارسی کے سربراہ ڈاکٹر جہانگیر اقبال تانترے نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ ڈاکٹر شاداب ارشد نے مہمانوں کو گلدستے اور کشمیری شال پیش کئے۔  پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر محمد منور مسعودی، پروفیسر عبدالخالق رشید اور پروفیسر عارف ایوبی نے بھی افتتاحی مجلس میں سیمینار کی مناسبت سے اظہار خیال کیا ہے۔ پروفیسر خورشید اقبال اندرابی، پروفیسر محمد زمان آزردہ اور جمہوری اسلامی ایران کے نامور قلمکار، ادیب و ماہر تعلیم علی رضا قزوہ نے اپنے اپنے لیکچروں  میں اخلاق اور فارسی ادبیات کے حوالے سے مدلل تقاریر کئے۔ سیمینار میں شعبہ فارسی دانشگاہ کشمیر سے شائع ہونے والے  مجلہ ’’دانش‘‘ کی رسم رونمائی بھی ہوئی۔

سیمینار میں مقررین نے کشمیر کے تعلیمی نظام میں اخلاقیات کے فقدان اور فارسی زبان کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کا حل فارسی زبان و ادبیات میں مضمر ہے۔ تین روزہ بین الاقوامی سیمینار میں مقررین نے فارسی زبان و ادبیات کے تئیں انتظامیہ کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فارسی زبان میں ایک عظیم سرمایہ موجود ہے جو اخلاقی بحران کے خاتمے کے لئے کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ شعبہ فارسی کے سربراہ ڈاکٹر جہانگیر اقبال کھانڈے نے کہا کہ فارسی زبان و ادبیات میں اخلاق کے ذخائر موجود ہیں جنہیں بروئے کار لاکر اخلاقیات کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ وہ اس طرح کے سیمینار کشمیر بھر کے کالجوں میں منعقد کروائیں گے اور ریاست میں فارسی زبان و ادبیات کی ترویج کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائیں گے۔

ڈاکٹر جہانگیر نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کشمیر میں فارسی زبان و ادبیات کے ساتھ دلچسپی رکھنے والوں نوجوان اسکالروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو فارسی زبان کی ترویج کے لئے فعال ہیں۔ ڈاکٹر جہانگیر اقبال نے تین روزہ بین الاقوامی سیمینار میں شرکت کرنے والے تمام طالبعلموں، اسکالروں، دانشوروں، پروفیسر صاحبان اور مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا اور اس سیمینار کو احسن طریقے سے انجام دینے میں تعاون کرنے والے تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ /۹۸۸/ ن۹۲۱

 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬