22 November 2018 - 15:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437715
فونت
اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ :
ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے کہا : طاقت کے ذریعے آزادی کے جذبے کو دبایا نہیں جا سکتا۔
اسلامی تعاون تنظیم

اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ :

قابض افواج مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیلنا بند کرے

ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے کہا : طاقت کے ذریعے آزادی کے جذبے کو دبایا نہیں جا سکتا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے کہا ہے کہ اوآئی سی کشمیر یوں کی جدوجہد کی ہر مرحلے میں مکمل حمایت جاری رکھے گی۔

اطلاعات  کے مطابق سکریٹری جنرل او آئی سی  ڈاکٹر یوسف بن احمد نے مرکزی سیکرٹریٹ جدہ میں پاکستانی قونصلیٹ کے اشتراک سے کشمیر کے حوالے سے منعقد کردہ سمینار اور تصویری نمائش میں شرکت کی۔

" کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے"  کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر یوسف بن احمد نے بھارت سے کشمیریوں پر طاقت کے استعمال کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قابض افواج مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیلنا بند کرے، طاقت کے ذریعے آزادی کے جذبے کو دبایا نہیں جا سکتا۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے مزید کہا کہ گزشتہ 3 دہائیوں سے کشمیر کا معاملہ اسلامی تعاون تنظیم کی ترجیحات میں سر فہرست ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں بھی کشمیر سے متعلق گفتگو کو اولین ترجیح پر رکھا گیا تھا۔ او آئی سی نے وزیراعظم پاکستان کو کشمیر کے معاملے میں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قونصل جنرل شہریار اکبر خان نے مطالبہ کیا کہ بین الاقومی برادری اقوام متحدہ کی رپورٹ کی سفارشات کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کیلئے ایک کمیشن آف انکوائری کے قیام کی سفارش کرے، کشمیریوں پر قبضے کو ختم کرائے اور ہندوستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق او گآئی سی کا قیام مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے بنایا گیا تھا جب یہ تنظیم مسئلہ فلسطین کو آج تک حل نہ کراسکی تو مسئلہ کشمیر کو کیا حل کرائے گی۔

 ذرائع کے مطابق او آئی سی امریکی اور سعودی عرب کی ایک ذيلی تنظیم ہے یہ تنظیم عالم اسلام کو درپیش چیلجنوں کا مقابلہ کرنے  اور ان کا حل تلاش کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬