09 April 2019 - 17:22
News ID: 440136
فونت
ان پاسداران انقلاب کا "جرم" یہ ہے کہ ان کو مظلوم کی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے، یہ مظلوم کے آنسو پونچھتے ہیں، ان کی داد رسی کرتے ہیں، ان کو جینے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ انہوں نے یمن اور دیگر ممالک میں نہتے اور بے گناہ عوام کو حمایت کی ۔

تحریر: تصور حسین شہزاد

ملک کے 20 کے قریب صوبے سیلاب کی زد میں ہیں، 19 سو شہر ڈوبے ہوئے ہیں، ایک لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی نقل مکانی کرچکی ہے۔ وہ بیرکوں سے نکلے اور سیلاب متاثرین کی داد رسی کیلئے پہنچ گئے۔ سیلاب کا شکار ہونیوالے بیشتر لوگ ان کے ہم مسلک بھی نہیں ہیں، اس کے باوجود انہوں نے بلاتفریق مسلک و مذہب سیلاب متاثرین کی مدد کی اور خدمت کا یہ سلسلہ ابھی، اس وقت بھی جاری ہے۔ عجب اتفاق ہے کہ انسانیت سسک رہی ہے، لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، گھر اُجڑنے پر کھلے آسمانوں تلے اُداس سوگوار بیٹھے بچوں کی نظریں، اُوپر کہیں دُور آسمانوں میں رہنے والے رب کو تلاش کر رہی ہیں۔ بچے بھی سوچتے ہوں گے کہ شہ رگ سے بھی قریب رہنے والے کو ہمارے سیلاب کی نذر ہوتے گھر دکھائی کیوں نہیں پڑتے۔ یہ وقت وہ ہے، جب اپنے اور پرائے کی پہچان ہوتی ہے۔ جی ہاں، اس سیلابی کیفیت سے اس وقت ہمارا ہمسایہ ملک ایران دوچار ہے اور ان سیلاب زدگان کی امداد میں مصروف "پاسدارانِ انقلاب" کو امریکہ نے اس لئے دہشتگرد قرار دے دیا ہے کہ وہ انسانیت کا احساس کرتے ہیں۔

ان پاسداران انقلاب کا "جرم" یہ ہے کہ ان کو مظلوم کی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے، یہ مظلوم کے آنسو پونچھتے ہیں، ان کی داد رسی کرتے ہیں، ان کو جینے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے یمن میں نہتے اور بے گناہ عوام کو، جو کسی دشمن کے نہیں بلکہ اپنوں کے ہی عتاب کا شکار ہیں، کی ڈھارس بندھائی ہے، یمنیوں کے آنسو پونچھے ہیں۔ پاسداران انقلاب کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے فلسطین کے مظلوم عوام کو غاصب اسرائیل کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے کربلا سے ملنے والا درس فلسطین کی معصوم بچوں کو بھی پڑھا دیا ہے، جو ٹینکوں کے سامنے کنکریاں لیکر کھڑے ہو جاتے ہیں اور خوفزدہ نہیں ہوتے۔

پاسداران کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے اہلبیت اطہار کے روضہ ہائے مبارک کی حفاظت کی ہے۔ انہیں دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھا ہے۔ پاسداران انقلاب کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کی ایسے شاندار انداز میں حفاظت کی کہ وہ اپنے 40 سال پورے کرنے میں کامیاب ہوگیا جبکہ دشمنوں نے تو کہا تھا کہ یہ انقلاب چند روز چلے گا اور لوگ "ملاوں" سے اکتا کر، انہیں اقتدار کے ایوانوں سے نکال باہر کریں گے اور ایران واپس شاہ کے اسی دور میں لوٹ جائے گا، جس دور میں فحاشی، عریانی، بے راہ روی اور بے شرمی انتہاوں کو چھو رہی تھی۔

یہ پاسدارانِ انقلاب ہی تھے، جنہوں نے اس انقلاب کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اسے کامیاب بھی بنایا۔ پاسداران انقلاب کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے لبنانیوں کو زندگی دی۔ یہی "جرائم" شیطانِ اعظم کو ایک آنکھ نہیں بھائے اور اس نے پہلی بار کسی ملک کی سرکاری فوج کو "دہشت گرد" قرار دے دیا ہے۔ امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب پر پابندی عائد کر دی ہے اور پابندی کے جواز کے طور پر مذکورہ بالا تمام جرائم گنوائے ہیں۔ اگر سیلاب میں پھنسے ہووں کی مدد کرنا دہشتگردی ہے، تو جی ہاں پاسداران انقلاب بہت بڑے دہشت گرد ہیں۔ اگر مظلوم کی داد رسی، اہلبیت اطہار (ع) کے مقدسات کی حفاظت، مسلمانوں کا دکھ بانٹنا، شیطان کو شیطان کہنا، جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بولنا، دہشت گردی ہے، تو بالکل پاسداران انقلاب بہت بڑے دہشت گرد ہے، مگر افسوس کہ دورِ حاضر کے شیطان سے بھول ہوگئی ہے۔

شیطان بزرگ امریکہ نے جن "اعتراضات اور جوازوں" کو بنیاد بنا کر پاسداران انقلاب پر پابندی لگائی ہے، ان سے تو ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ پہلے دنیا نہیں جانتی تھی کہ غریبوں اور مظلوموں اور مستضعفین کی مدد کون کر رہا تھا، مگر امریکہ کا شکریہ کہ اس نے بے نقاب کر دیا کہ سیرت النبی (ص) اور سیرتِ علی (ع) پر عمل کرنیوالے یہی پاسداران ہی ہیں۔ پاسداران انقلاب کے "جرائم" کی فہرست دیکھ کر تو ڈر لگنے لگ گیا ہے کہ اب کون مظلوم کی داد رسی کرے گا؟ اب کون سیلاب میں پھنسے ہوئے انسانوں کی اس وقت مدد کرے گا؟ جب عالمی براداری جان بوجھ کر چشم پوشی کر رہی ہوگی۔ جب عالمی میڈیا آنکھیں موندے ہوئے ہوگا۔ جب ہلال احمر ایران کے فنڈز اس وقت منجمد کر دیئے جائیں گے، جب سیلاب سے تباہی ہو رہی ہوگی۔

پاسداران انقلاب پر پابندی لگانے والے بھول گئے ہیں کہ مانا دنیا شیطان کیساتھ ہے، مگر رحمان تو پاسداران کیساتھ ہے اور میرے پیارے نبی (ص) نے فرمایا تھا کہ جب اللہ تمھارے ساتھ ہو تو تمہیں یہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ دنیا کس کیساتھ ہے۔ قوت امریکہ نہیں، اللہ ہے اور اللہ نے ہی تو وہ چھوٹا سا مچھر بنایا ہے، جس نے نمرود کا جینا حرام کر دیا تھا۔ اللہ نے ہی تو موسیٰ (ع) کو بھیجا تھا، جنہوں نے فرعون کا تخت الٹ دیا تھا اور اللہ نے ہی امام مہدی (عج) کو پردہ غیبت سے باہر بھیجنا ہے، جب شیطان کی حربے حد سے بڑھنے لگیں گے تو آپ (عج) کا ظہور ہوگا۔ یہ عارضی پابندیاں تو ایمان کو اور زیادہ مضبوط کرنے کا باعث بن رہی ہیں کہ امام زماں (عج) کا ظہور قریب ہے اور پھر دنیا دیکھے گی کہ کیسے شیطانِ جہاں کے پرخچے ہواوں میں اُڑتے ہیں۔ پھر انہیں منہ چھپانے کیلئے کہیں جگہ بھی نہیں ملے گی۔ سوچنا یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم شیطان کی صفوں میں ہیں یا رحمان والے گروپ میں۔؟؟ /۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬