08 April 2020 - 18:13
News ID: 442470
فونت
آج کی جس دنیا میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں ترقی کے ساتھ ساتھ مشکلات بھی ہیں جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے نئی نئی مشکلیں بھی سامنے آرہی ہیں ابھی اس وقت ایک بیماری نے پوری دنیا کو عاجز و ناتوان کر دیا ہے

تحریر: حجت الاسلام سید ظفر عباس رضوی قم المقدسہ ایران

آج کی جس دنیا میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں ترقی کے ساتھ ساتھ مشکلات بھی ہیں جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی جا رہی ہے ویسے ویسے نئی نئی مشکلیں بھی سامنے آرہی ہیں ابھی اس وقت ایک بیماری نے پوری دنیا کو عاجز و ناتوان کر دیا ہے اور دنیا والوں کو بتا دیا کہ تم جتنی بھی ترقی کر لو لیکن مجبور ہی رہو گے، البتہ طبیعی اور قدرتی مشکلیں کم ہیں اور خود لوگوں کی بنائی ہوئی زیادہ ہیں، آج انسان اپنے ذاتی مفاد و مقاصد اور حکومت و برتری کی غرض سے دوسروں پہ ظلم ڈھا رہے ہیں، انسانیت کا خون بہا رہے ہیں، جس کے پاس ظاہری قوت و طاقت ہے وہ کمزوروں اور بے سہارا لوگوں کو کچل رہے ہیں انھیں انسان سمجھنے کے قائل نہیں ہیں جیسے ان کو جینے کا حق ہی نہیں ہے، گویا کہ پوری دنیا میں اتھل پتھل اور ہنگامہ مچا ہوا ہے، اس پرتشدد اور فتنہ پرور زمانہ میں اگر ہم تاریخ پہ نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں پہ ہوئے ہیں خاص طور سے شیعوں پہ دنیا کے سب سے زیادہ مظلوم شیعہ ہیں جن کے اوپر ہر دور اور ہر زمانہ میں ظلم و ستم ہوئے ہیں۔


عام طور سے ہوتا ہے کہ جو کمزور اور ضعیف و بے سہارا ہوتا ہے جس کا کوئی نہیں ہوتا ہے اس کے اوپر سبھی ظلم کرتے ہیں یہ سوچ کے کہ اس کا تو کوئی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس خود اتنی طاقت ہے کہ مقابلہ کر سکے یہی سوچ کے لوگ طرح طرح کے مصائب ڈھاتے ہیں، لیکن اگر کوئی ایسا انسان ہو جس کے بارے میں لوگوں کو پتہ ہو کہ اس کے اوپر کسی بڑی طاقت کا ہاتھ ہے اور وہ بے سہارا اور لاوارث نہیں ہے بلکہ اس کی پشت پناہی کرنے والے موجود ہیں تو ایسے انسان پہ لوگ ظلم و ستم و تشدد کرنے سے پہلے ایک مرتبہ سوچیں گے اور ڈریں گے۔

اس وقت شیعوں کے اوپر بھی جو اتنے ظلم و ستم ہو رہے ہیں اس کی بھی وجہ یہی ہے کہ دنیا والے سمجھ رہے ہیں کہ یہ کمزورو ناتوان ہیں اور ان کے پاس کوئی بڑی طاقت نہیں ہے کوئی پشت پناہی کرنے والا نہیں ہے کوئی سہارا دینے والا نہیں ہے، البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور کے ظالم و جابر کو ہمیشہ ہم سے ہی خطرہ رہتا ہے کہ ہم اس کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، اور اس وقت ہمارے پاس بھی ایسی طاقتیں ہیں جو اس وقت کے سب سے بڑے ظالم و جابر کو منہ توڑ جواب دے سکیں اور وقت پڑنے پہ دیتی بھی ہیں اور دنیا دیکھتی بھی ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود بھی شیعوں پہ ہونے والے ظلم و تشدد سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے سوال یہ ہے کہ اتنے ظلم و ستم اور دشمنوں کے باوجود بھی کون سی ایسی طاقت ہے جس نے ہمیں زندہ کر رکھا ہے اور ظالم سے مقابلہ کرنے کی ہمت دے رکھی ہے جس اعتبار سے ظلم ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں اس لحاظ سے تو اب تک اس قوم کو ختم ہو جانا چاہئیے تھا، لیکن ماننا پڑے گا کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو ہماری پشت پناہی کر رہی ہے اور ہے بھی ایسا ہی کہ ہمارا کوئی وارث ہے اور ہم لاوارث نہیں ہیں ایسا وارث جو ایک پل بھی ہم سے غافل نہیں ہوتا مسلسل ہماری فکر کرتا رہتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امام نے خود اس کو بیان کیا ہے امام نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کو جو خط لکھا ہے اس میں فرماتے ہیں کہ:
*"اِنّا غَیْرُ مُهْمِلینَ لِمُراعاتِکُمْ، وَلا ناسینَ لِذَکْرِکُمْ، وَلَوْلا ذلِکَ لَنَزَلَ بِکُمُ الَّلاْواءُ وَاصْطَلَمَکُمُ الاَْعْداءُ ؛ ہم نے تمہاری سرپرستی اور مدد میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور تمہیں بھولے بھی نہیں ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو تم مشکلات اور پریشانیوں میں گھر جاتے اور دشمن تم کو ہلاک و نابود کر دیتے "۔(۱)

ہمارا وارث اور ہمارا امام واقعا ہمیں کتنا چاہتا ہے کہ ایک ایک پل ہم سے غافل نہیں ہے وہ اپنا فرض نبھا رہے ہیں لیکن کیا ہم بھی اپنے وارث کو اتنا ہی یاد رکھتے ہیں یہاں پہ مسئلہ بڑا سخت ہوجائے گا کہ ہم کتنا اپنے صاحب و مالک کے سلسلہ سے کوشاں رہتے ہیں اور کتنی بے صبری سے اپنے امام کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کے ظہور کے لئے کتنی دعایئں کرتے ہیں جب کہ پیغمبر اکرم(ع) نے فرمایا کہ: أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِي اِنْتِظَارُ اَلْفَرَجِ مِنَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ؛ خدا کی طرف سے میری امت کے لئے بہترین عمل انتظار فرج(ظہور امام زمانہ علیہ السلام) ہے"۔ (۲)

ہمیں خود دیکھنا چاہیئے کہ اس حدیث کی روشنی میں ہم اپنے امام کا کتنا انتظار کرتے ہیں اور کتنی بے قراری سے کرتے ہیں اور ویسے بھی اولاد لائق ہو تب بھی ماں باپ خیال رکھتے ہیں اور اگر نالائق ہو تب بھی خیال کرتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ لائق ہوتی ہے تو خوشی خوشی اور دل سے چاہتے ہیں اور خیال کرتے ہیں لیکن اگر لائق نہ ہو تو یقینا افسوس کرتے ہیں اور غمزدہ ہوتے ہیں، اسی طریقہ سے ہم ہیں اگر نیک اور اچھے ہیں تب بھی ہمارا امام ہمارا خیال کرتا ہے اور اگر نیک نہیں ہیں تب بھی بہر حال امام اپنے لطف و کرم سے ہمیں محروم نہیں کرتے ہیں یہ اوربات ہے کہ نیک اور صالح ہونے کی بنیاد پہ امام خوش ہوتے ہوں گے اور نیک و صالح نہ ہونے کی بنا پر امام کا دل دکھتا ہوگا اور آپ ہمارے حال پہ روتے ہوں گے، امام علیہ السلام کا خوش ہونا اور ناراض ہونا خود ہمارے ہاتھوں میں ہے ہم چاہیں تو نیک اور اچھے عمل انجام دے کے اپنے امام کو خوش کردیں اور چاہیں تو اپنے برے اعمال سے اپنے امام کو ناراض کر دیں۔

یہاں پہ یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ ہو سکتا ہے ہم میں سے بہت سے ایسے ہوں جو بہت زیادہ نیک عمل انجام دیتے ہوں اور زیادہ سے زیادہ اپنے وقت کو عبادت و ریاضت میں بسر کرتے ہوں لیکن پھر بھی اپنے امام سے غافل ہوں یعنی ہماری توجہ اپنے امام کے بارے میں نہ ہو یا کم ہو۔

لہذا ہم کو دیکھنا چاہیئے کہ ہم روزانہ کتنا اپنے امام کو یاد کرتے ہیں کتنی ان کی سلامتی اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرتے ہیں، بات صرف عبادت کرنے کی نہیں ہے واجبات و مستحبات کے انجام دینے کی نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا اپنے اس امام سے کتنا رابطہ ہے جو ہر وقت ہماری جان و مال و ناموس کی حفاظت کر رہا ہے جو ہمیشہ ہمارے لئے دعائیں کرتا ہے جو ہمیشہ ہماری مشکلوں کو آسان کرتا ہے، جو ہمیشہ ہمارے لئے خیر چاہتا ہے، سخت سے سخت گھڑی ہو ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا، ہمیں اپنے اس امام کے لئے زیادہ سے زیادہ دعایئں کرنا چاہیئے جو ہمارا صاحب و مالک اور ہمارا ولی نعمت ہے جس کے وجود کی برکت سے ہمارا وجود ہے اس لئے کہ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: "لَوْ بَقِيَتِ اَلْأَرْضُ يَوْماً وَاحِداً بِلاَ إِمَامٍ مِنَّا لَسَاخَتِ اَلْأَرْضُ بِأَهْلِهَا، وَ لَعَذَّبَهُمُ اَللَّهُ بِأَشَدِّ عَذَابِهِ، وَ ذَلِكَ أَنَّ اَللَّهَ جَعَلَنَا حُجَّةً فِي أَرْضِهِ وَ أَمَاناً فِي اَلْأَرْضِ لِأَهْلِ اَلْأَرْض؛ اگر زمین ایک دن بھی ہم اماموں کے بغیر رہ جائے تو اپنے اہل کے ساتھ دھنس جائے گی اور خدا ان کے اوپر شدید عذاب نازل کرے گا، بے شک خدا نے ہمیں زمین پہ حجت اور اہل زمین کے لئے امان قرار دیا ہے"۔ (۳)ٌ

ایک دوسری جگہ پہ ہے کہ راوی نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ " کیا زمین بغیر امام کے باقی رہ سکتی ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ" أَتَبْقَى اَلْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ قَالَ لَوْ بَقِيَتِ اَلْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ لَسَاخَتْ؛  اگر زمین بغیر امام کے باقی رہے گی تو دھنس جائے گی"۔ "(کافی ج1 ص 179 ناشر- دارالکتب الاسلامیہ تھران)

ہمیں اپنے اس امام کے ظہور کے لئے زیادہ سے زیادہ دعایئں کرنا چاہیئے جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طریقہ سے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے، جو مظلوموں کا سہارا ہوگا، بیکسوں کا مدد گار ہوگا، دنیا کے ظالم و جابر کا خاتمہ کرنے والا ہوگا، منتقم خون حسینی ہوگا۔

واقعا اگر ہم اس کے لئے زیادہ سے زیادہ دعایئں نہیں کریں گے تو پھر ہماری عبادتوں کا کیا فائدہ، ہمارے نیک اعمال کا کیا فائدہ، اس لئے کہ اگر کوئی اپنے محسن، صاحب و مالک کو ہی یاد نہ کرے تو پھر اس کے سارے اعمال بے کار ہیں، اور ظاہر سی بات ہے کہ جب ہمارا رابطہ اپنے امام سے گہرا نہیں ہوگا تو پھر ان کا لطف و کرم بھی اسی اعتبار سے ہوگا، وہ لوگ جن کا رابطہ امام سے گہرا تھا اور ہے ان کے اوپر امام کا لطف و کرم بھی ویسا ہی ہے اگر ہم دیکھیں تو ہم کو بہت سی ایسی شخصیتیں مل جایئں گی کہ جن کے اوپر امام کی ایک نظر کرم ہوگئ وہ ذرہ سے آفتاب بن گئے اور پوری دنیا ان سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ ہمیں امام کے سلسلہ سے اور ان سے اچھے رابطہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ہم بہت زیادہ ادھر ادھر بھاگتے پھریں بلکہ اگر ہم اپنے کو اور اپنے اعمال کو ایسا بنا لیں جیسا امام چاہتے ہیں تو پھر امام خود ہم سے ملنے کے لئے آئیں گے جیسا کہ بہت سی شخصیتیں اور علماء کے بارے میں ملتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ان سے خود ملاقات کی، یہ تو بس ہمارے ایمان اور اعمال کا نتیجہ ہے کہ بہت سے ایسے اللہ والے ہیں جو مسلسل اپنے امام کی زیارت کرتے رہتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو اپنے برے اعمال اور گناہوں کی وجہ سے اپنے امام کی زیارت سے محروم رہتے ہیں۔


آخر میں خدا وند عالم سے دعا ہے کہ خدا محمد(ص) و آل محمد علیہم السلام کے صدقہ میں ہمارے امام کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں اپنے امام کی معرفت عطا فرمائے ساتھ ہی ساتھ زیادہ سے زیادہ نیک عمل انجام دینے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہمارے امام کو ہم سے راضی و خوشنود فرمائے اور امام علیہ السلام کے صدقہ میں تمام مومنین کو ہر بلاء و آفت سے خاص طور سے کرونا جیسی منحوس اور مہلک بیماری سے محفوظ فرمائے- /۹۸۸/ن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 حوالہ:

۱: احتجاج برسی ج2 ص497 ناشر- نشر مرتضی مشہد
۲: کمال الدین و تمام النعمة ج 2 ص 644 ناشر- اسلامیہ تہران
۳: دلائل الامامة ص 436 ناشر- بعثت قم

 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬