13 April 2020 - 17:37
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442500
فونت
اقوام متحدہ میں قائم ایران کے دفتر نے امریکی پابندیوں کو کرونا کے پانچویں ستون کا نام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر وہ اقدام جو اس بحران سے نمٹنے میں کسی قوم کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنے وہ اس بیماری کے پھیلاؤ میں اضافے سمیت اس وبا کے خلاف عالمی جد و جہد کو کمزور بنائے گا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر نے اتوار کے روز اپنی رپورٹ میں کورونا وائرس کے خلاف تمام ممالک کی مشترکہ جد و جہد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت جب ایران کورونا وائرس سے بُری طرح متاثر ہوا ہے پابندیوں سے کورونا وائرس کے خلاف ایرانی کوششوں کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے ۔

ایران نے اپنی اس رپورٹ میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکی حکام غیر قانونی اورغیر اخلاقی پابندیوں کی شرم سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے یہ دعوی کرتے ہیں کہ انسانی اور طبی ضرورتوں کیلئے تادیبی کارروائیاں نہیں ہوں گی کہا کہ امریکہ کی وزارت خزانہ نے 27 فروری 2020 کو پروپگنڈہ کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ کے انسانی ہمدردی کے تجارتی معاہدے (SHTA) میں اس بات کی اجازت دی کہ انسانی ہمدردی کے ناطے ایران کے ساتھ بعض معاملے انجام پائیں لیکن موجودہ صورتحال میں ایران کی انسانی ضرورتوں کے پیش نظر یہ کافی نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں آیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے معین شدہ بینک میں ایران کے منجمد ہونے والے اثاثوں کی منتقلی تقریبا غیرممکن یا مشکل ہو گئی ہے جو اس سسٹم کے ناکام ہونے کا موجب بنی ہے اور حال ہی میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکی دباو کی وجہ سے ادویات اور دیگر طبی اشیاء کی کمپنیوں نے ایران کیلئے اپنی ترسیل روک دی ہے۔

ایران کے دفتر نے پابندیوں کے فوری خاتمے کو انسانیت کے مفاد میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ عالمی برادری کسی کو بھی دنیا کے عوام کی زندگی اور سلامتی کو خطرات سے دوچارکرنے کی اجازت نہ دے۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬