رسا نیوز ایجنس کے نجف اشرف سے عالمی رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق عراق شیعوں کے مرجع تقلید آیت الله سید محمد تقی مدرسی نے اپنی ایک تقریر میں اس ملک میں پسٹ و مقام پر منصوب اہل کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : بعض لوگ جیسے ہی منصب پر پہوچتے ہیں لوگوں کی مشکلات کو بھول جاتے ہیں اور صرف اپنی شخصی مفاد کے حصول میں مشغول ہو جاتے ہیں اور اپنے منصب کی حفاطت کے لئے گروہ تیار کرتے ہیں اس سے غافل کہ اس کی حفاظت صرف خداوند عالم کے لئے کام کرنا اور لوگوں کی مشکلات کو حل کرنے سے انجام پائے گا ۔
آیت الله مدرسی نے بیان کیا : عراق کی نئی حکومتی سسٹم کو ۱۷ سال گذر گئے اور اس زمانہ میں ملک کی بنیادی چیزیں اور اس کو منظم کرنے کے لئے کافی تھا ۔ اس کے علاوہ کافی مقدار میں بجٹ موجود ہے لیکن پارٹی کا مفاد و کمیشن کے حصول اور مالی کرپشن کی وجہ سے ملک عقب ماندگی کا شکار ہے حالانکہ بہت سارے ممالک کم بجٹ اور مختصر زمانہ میں خود کو منظم کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔