22 June 2020 - 17:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442994
فونت
ویبنار«امریکی صورتحال کا جایزہ» میں امریکی ھژمونی کی نا کار آمدی اور اس کے عالم اسلام پر اثرات کا جایزہ لیا گیا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،«امریکی صورتحال کا جایزہ» کے عنوان سے گذشتہ روز ان لاین سیمینار جامعة المصطفی(ص) العالمیة خراسان، امام خمینی روڈ ، گلی نمبر 14 میں منعقد ہوا۔ سیمینار میں امریکی ھژمونی کی نا کار آمدی اور اس کے عالم اسلام پر اثرات کا جایزہ لیاگیا۔

آن لائن سیمینار میں حجت‌الاسلام محمدباقر گرایلی «امریکی صورتحال کا جایزہ» سیمینار میں امریکی صورتحال پر جایزے کے حوالے سے ایکنا نیوز سے گفتگو میں کہا: امریکی صورتحال اور اسکے بحران پر سیاسی، ثقافتی اور اجتماعی حوالوں سے اثرات کو جامعةالمصطفی(ص) العالمیة کے ماہر اساتذہ اور طلبا کی نظر سے زیرغور لایا جارہا ہے۔

حمکت و تاریخ مدرسے کے سربراہ جو جامعةالمصطفی(ص) سے وابستہ ہے کہا کہنا تھا: سالوں سے سیکولر نظام کا سکہ چل رہا تھا اور اس نظام کو دیگر ممالک میں نفاذ کی باتیں ہورہی تھیں لیکن حالیہ امریکی واقعات نے ثابت کردیا کہ یہ نظام اپنے ہی مرکز کو سنبھالنے پر قادر نہیں۔

گرایلی کا کہنا تھا: اخلاق کا یہ عالم ہے کہ اس ملک میں ۲۰ ڈالر کے لیے قتل کیا جاتا ہے اور اسی لیے رھبر معظم انقلاب نے فرمایا تھا کہ امریکی گھٹنا دیگر ممالک کے گلے پر دبایا جارہا ہے.

اس حوالے سے اس صورتحال کا دیگر ممالک کے ثقافتی، سیاسی اور اجتماعی حالات پر اثرات کا جایزہ لینا چاہیے۔

امریکہ جو دنیا میں گلوبل نظام کا دعویدار ہے اور اس کو دنیا پر تحمیل کرنا چاہتا ہے سوال اٹھتا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر کیا وہ دنیا کو اس طرح سے چلا سکتا ہے؟

گرایلی نے کہا کہ اس صورتحال سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ دنیا کو کنٹرول کرنے پر قادر نہیں اور قدرت کو مونوپولر سسٹم مزید نہیں چل سکتا اور چند قطبی نظام کی ضرورت ہے۔

انکا کہنا تھا کہ آن لاین سیمنار میں مختلف ممالک کے تجزیہ کاروں سے استفادہ کیا گیا جبکہ ایران میں امریکی امور کے ماہر فؤاد ایزدی نے امریکی اخلاقی – سیاسی نظام کے حوالے سے جایزہ پیش کیا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ سمینار Adobe Connect پر http://vce.miu.ac.ir/mashhad۴ موجود ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں