02 September 2020 - 14:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443615
فونت
علامہ نیاز نقوی:
نائب صدر ملی یکجہتی کونسل نے کہا کہ عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام شہری آزادیوں اور مسلمہ آئینی حقوق کی بنیاد ہے، جسے پامال نہیں ہونے دیا جائیگا۔ غیر اسلامی ممالک میں بھی عزاداری کیلئے کوئی پابندی نہیں۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی نے میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں کشمیر اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں عزاداروں پر ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام شہری آزادیوں اور مسلمہ آئینی حقوق کی بنیاد ہے، جسے پامال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا: غیر اسلامی ممالک میں بھی عزاداری کیلئے کوئی پابندی نہیں، لیکن افسوس کہ حکومت کو بدنام کرنیوالے عناصر پاکستان خاص طور پر پنجاب میں اوچھے ہتھکنڈوں سے مذہبی آزادیوں کو مجروح کر رہے ہیں۔

علامہ نقوی کا کہنا تھا کشمیر میں ایک سال سے زائد عرصے سے لاک ڈاون کا شکار کشمیری مسلمانوں نے محرم الحرام کے جلوس نکالے اور نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد منانے کیلئے سڑکوں پر لبیک یاحسینؑ کے نعرے لگاتے ہوئے نکلے تو ھندوستانی فوجی ان پر ٹوٹ پڑے اور نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا کہا: انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عزاداروں کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے بہادری سے سید الشہداء کی عزاداری کو سنگینوں کے سائے میں بھی جاری رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے کچھ مقامات پر جلوسوں اور مجالس کے انعقاد پر مقدمات، عزاداری کو محدود کرنے کی پالیسی کا تسلسل اور تبدیلی کے دعووں کی نفی ہے۔ ریاستی اداروں کی طرف سے عزاداری کے جلوسوں میں رکاوٹ مقبوضہ کشمیر کے بعد پنجاب میں نظر آئی۔ تونسہ میں علم عباس اور چوچک اوکاڑہ میں شبیہہ ذوالجناح کی توہین کے مرتکب افراد کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

علامہ نقوی نے کہا کہ حیرت ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عزاداری کو چند شرپسند عناصر کو خوش کرنے کیلئے مشکل بنایا جا رہا ہے، عزاداری جاری رہے گی۔ اس کیلئے پہلے بھی قربانیاں دیں، آئندہ بھی کسی خوف کا شکار نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے باقی ایام اور ماہ صفر کے آخر تک انتظامیہ اور امن و امان کے ادارے مجالس کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دیں، تاہم جلوسوں کو کرفیو کے ماحول سے نکالا جائے۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬