07 September 2020 - 15:15
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443666
فونت
12 ربیع الاول سے؛
جماعت اسلامی پاکستان کے ترجمان قیصر شریف نے کہا: عالم اسلام کی قیادت بھی دشمن کی مٹھی میں ہے اور وسائل پر بھی اس کا قبضہ ہے، حکمران بائیس کروڑ عوام کیلئے نہیں آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کیلئے قانون سازی کرتے ہیں، کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمان اور مائیں بہنیں بیٹیاں پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جماعت اسلامی پاکستان نے 12 ربیع الاول سے نظام مصطفی(ص) اور سود کے خاتمے کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔

جماعت اسلامی کے ترجمان قیصر شریف کے مطابق شریعت اور نظام مصطفی(ص) کے نفاذ کے بغیر پاکستان کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا، ہمارے حکمران غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی لوٹ کر اپنے کارخانے اور بنگلے بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پیغمبر(ص) نے تو دشمنوں کی امانتوں کی بھی حفاظت کی، عوام کیساتھ فراڈ کرنے کو حکمران اپنی قابلیت سمجھتے ہیں، حکمران اپنے وعدوں سے مکر کر کہتے ہیں رات گئی بات گئی۔

قیصر شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے آگے سجدہ ریز حکمران سر اُٹھانے کا نام نہیں لیتے حالانکہ آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے سے خود کشی کرنا بہتر قرار دیتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے ایف اے ٹی ایف کے قوانین میں حکومت کا ساتھ دے کر ثابت کیا کہ امریکی جھنڈے تلے یہ سب ایک ہیں، ان کی محبتوں کا قبلہ آج بھی واشنگٹن اور لندن ہے۔

قیصر شریف نے کہا کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے قادیانی پاکستان کی سالمیت کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں، حکمران امریکہ و سامراجی اور استعماری قوتوں کی خوشنودی اور ڈالرز کیلئے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، 72 سال بعد بھی پاکستان کے بائیس کروڑ عوام تحفظ ختم نبوت (ص) اور ناموس رسالت (ص) کی حفاظت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، کلمہ کے نام پر بننے والے ملک میں اگر ناموس رسالت(ص) اور صحابہ کرام ؓ کی عزت محفوظ نہیں تو یہ کیسا اسلامی ملک ہے؟ حکمرانوں نے تو پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی قیادت بھی دشمن کی مٹھی میں ہے اور وسائل پر بھی اس کا قبضہ ہے، حکمران بائیس کروڑ عوام کیلئے نہیں آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کیلئے قانون سازی کرتے ہیں، کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمان اور مائیں بہنیں بیٹیاں پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں۔/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬