
رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے آج ایرانی اور غیرملکی نامہ نگاروں کے ساتھ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں شامی حکومت اور مخالفین کے درمیان قومی گفتگو کو شام کے بحران کی راہ حل جانا ۔
عباس عراقچی نے تہران میں انتیس مئی کو شام کے بحران کے بارے میں تہران میں منعقد ہونے والے اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ اجلاس اسلامی جمہوریہ ایران کی کوشش ہے کہ جو شام کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے مقصد سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شام کے بحران کی سیاسی راہ حل علاقے میں امن و استحکام میں مدد دے گی اور اگر سیاسی راہ کا انتخاب نہ کیا گیا تو علاقے میں امن قائم نہیں ہو گا کہا: علاقے میں امن و استحکام سیاسی اور پرامن راہ حل کے ذریعے ہی حاصل ہوگا۔
سید عباس عراقچی نے ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کی استنبول میں ہونے والی ملاقات کے بعد ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کے بارے میں کہا : اس بات سے اتفاق کیا گیا ہے کہ رابطے جاری رکھے جائیں گے اور آئندہ مذاکرات کے بارے میں فیصلہ آئندہ رابطوں میں کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جرمن وزیر خارجہ کے اس بیان کے بارے میں کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ امر جرمنی کے لئے ناقابل قبول ہے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا : اسلامی جمہوریہ ایران نے شروع سے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں اپنے ٹھوس موقف کا اعلان کر رکھا ہے اور اس بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کا فتوی بھی موجود ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔