02 October 2013 - 14:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6011
فونت
جے ایس او پاکستان کے سینر نائب صدر:
رسا نیوز ایجنسی - جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے سینر نائب صدر نے لوگوں کو خود اپنی حفاظت کی تاکید کرتے ہوئے کہا: درحال حاضر حکومت، طالبان کے ہاتھوں میں کھلونا ہے ۔
جعفريہ اسٹوڈنٹس آرگنائزيشن پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جے ایس او پاکستان کا تین روزہ اسکاؤٹنگ کیمپ 4 اکتوبر سے کوٹ ڈی جی میں شروع ہوگا ۔


جے ایس او پاکستان کے سینر نائب صدر عبداللہ رضا نے راولپنڈی ڈویژن کے نوجوانوں سے خطاب میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک کے حالیہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ طالبان کی حکومت ہے کہا: طالبان جہاں چاہتے ہیں اپنی مرضی کی کاروائی کر گزرتے ہیں اور انتظامی ادارے تماشا دیکھتے رہ جاتے ہیں۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ حکومتی ارکان ایک مذمتی بیان دے کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی کہا: اب ہمیں ملک کے سکیورٹی اداروں پر کوئی بھروسہ نہیں رہا ، یہ ادارے وی آئی پیز کو تو سیکورٹی فراہم کر سکتے ہیں مگر عام آدمی کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔


عبداللہ رضا نے پاکستانی عوام کو خود اپنی حفاظت کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا:  ملک کو لاشوں کے تحفے دئے جارہے ہیں اور وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ واپس آ کر اس بار ے میں کوئی فیصلہ لیں گے جبکہ چاہئے تو یہ تھا کہ وزیر اعظم صاحب اپنا دورہ ختم کر کے فوراً ملک واپس آ جاتے ۔


انہوں یہ بیان کرتے ہوئے کہ جے ایس او پاکستان اپنے قائد محبوب حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی کے حکم پر چلتے ہوئے ہمیشہ سے اس ملک کی بات کی اور یہاں کے باشندوں کی اصلاح احوال کے لئے کام کیا کہا: اب بھی جے ایس او کا مرکزی اسکاؤٹنگ کیمپ 4 اکتوبر سے کوٹ ڈی جی سندھ میں شروع ہو رہا ہے، اس تین روزہ اسکاؤٹنگ کیمپ میں طلبہ کو سکھایا جائے گا کہ وہ کس طرح نے اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی خدمت کرسکتے ہیں اور وہ کس کس جگہ پر مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں ۔

عبداللہ رضا نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ طلباء اس پروگرام میں زیادہ زیادہ سے زیادہ شرکت کریں تاکہ اس ملک کو دہشت گردی سے بچایا جا سکے تاکید کی : پاکستان اس وقت انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے ہم سب کو مل کر اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬