17 March 2017 - 23:45
News ID: 426938
فونت
محمد جواد ظریف:
اسلامی جمھوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے غاصب صیہونیت کو خطے اور دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا: مسلمان اختلافات کی دیواریں گرا کر متحد ہوجائیں کہ اسی میں ان کی بھلائی ہے ۔
محمد جواد ظریف


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، اسلامی جمھوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے لبنان کے المیادین ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو درپیش خطرات کی جانب اشارہ کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ خطے میں آباد قوموں کے خلاف اسرائیل کی پالیسیاں مخاصمانہ ہیں اور وہ اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے دوسروں کو خطرہ بنا کر پیش کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم برسوں سے اسرائیل کی دھشت گردانہ پالیسیوں کو دیکھتے چلے آرہے ہیں اور ہمیں کوئی امید نہیں ہے کہ اسرائیل کبھی پرامن پالیسیاں بھی اپنا سکتا ہے کہا: فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور تہران اس حوالے سے فلسطینیوں کی ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے ۔

ظریف نے فلسطین اور لبنان میں اسرائیل کے خلاف پائی جانے والی تحریک مزاحمت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : غزہ اور لبنان کے خلاف جارحیت نے اسرائیل پر واضح کردیا کہ فلسطین اور لبنان کے عوام اس کے لیے آسان ہدف نہیں ہیں ۔

انہوں نے اسلامی ممالک اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ایران کی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا : تہران عدم مداخلت اور عدم جارحیت پر یقین رکھتا ہے اور اس دائرے میں تمام ملکوں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے یہ کہتے ہوئے کہ بحرین، یمن اور شام میں قیام امن کے لئے ایران اپنے سبھی ہمسایہ ملکوں منجملہ سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہے سعودی عرب کو مشورہ دیتے ہوئے کہا:  وہ ایران کو نقصان پہنچانے کی غرض سے دوسرے کے قریب ہونے کے بجائے تہران کے ساتھ تعاون کرے ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ غلطی کا ارتکاب کرنے والے ممالک کو ایران کے بجائے خود اپنی سرزنش کرنا چاہئے کہا:  اس میں ایران کی کوئی غلطی نہیں ہے کہ دوسرے ممالک بلاوجہ یمن پر جارحیت کریں اور شام و عراق میں داعش اور جبہت النصرہ کی حمایت کا فیصلہ کریں ۔

ظریف نے سعودی عرب اور اسرائیل کی جانب سے بیک وقت ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا : سعودی عرب اور اسرائیل نے، ایٹمی مذاکرات کے آغاز میں ہی اس بات کی کوشش کی معاہدہ نہ ہوپائے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اب بھی ایسی ہی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے ایران ایٹمی معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے ہر آپشن کے لیے تیار ہے لیکن بہترین آپشن یہ ہے کہ امریکہ ایٹمی معاہدے پر صحیح طریقے سے عمل کرے کہا : حکومت امریکہ کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں لاحاصل ہیں اور ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد ہی بہترین آپشن ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے نئے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ہر قسم کے رابطے کی سختی کے ساتھ تردید کرتے ہوئے امریکی صدر کی جانب سے چھے اسلامی ملکوں کے شہریوں کے لیے نئے سفری احکامات کے بارے میں کہا : یہ انتہا پسندوں کے لئے ایک تحفہ ہے۔

انہوں نے شام کی صورتحال کے بارے میں ایران کی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:  تہران دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والوں کی حمایت کرتا ہے اور ہم شام میں داعش اور جبہت النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ میں شامی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔

ظریف نے داعش کے خلاف جنگ میں مربوط عالمی کوششوں کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا : دنیا کو داعش کی مالی امداد کے راستوں کو بند کرنا ہوگا۔

انہوں نے حکومت بحرین پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا : ملک کے بعض رہنماؤں اور علما کے ساتھ حکومت بحرین کا رویہ خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا: خطے میں ہر قسم کے اختلاف سے اسرائیل کو فائدہ پہنچے گا لہذا تمام مسلمانوں کو باہمی اختلافات کو ختم کردینا اور آپس میں متحد ہو جانا چاہئے۔ /۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۷۲۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬