03 June 2017 - 17:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428371
فونت
حجت الاسلام عارف حسین واحدی:
اسلامی تحریک کے جنرل سکریٹری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم اے عدم فعال ہے، ختم نہیں ہوئی، ۲۰۰۸ء کے انتخابات کے بعد جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے باہمی اختلافات کے باعث متحدہ مجلس عمل کو فعال نہ رکھا جا سکا، آئندہ مجوزہ دینی جماعتوں کے اتحاد میں مزید جماعتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں، اس حوالے سے رابطے جاری ہیں، اصولی طور پر سب کا انتخابی اتحاد پر اتفاق ہے تاکہ دینی حلقوں کا ووٹ بینک ضائع نہ ہو۔
حجت الاسلام عارف حسین واحدی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی تحریک پاکستان کے جنرل سکریٹری حجت الاسلام عارف حسین واحدی نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی رکن جماعتوں جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام ، جمعیت علماء پاکستان سمیت تمام سیاسی مذہبی جماعتوں سے رابطے ہیں، نئے انتخابی اتحاد کیلئے مشاورت جاری ہے، آئندہ انتخابات میں دینی جماعتیں ایک پلیٹ فارم سے حصہ لیں گی۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دینی جماعتیں 2018ء میں ایک پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیں گی، جیسا کہ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے دور میں ہوا تھا اور بہتر نتائج حاصل کرکے خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت، بلوچستان میں مخلوط حکومت اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا منصب حاصل کر لیا تھا۔

حجت الاسلام واحدی نے واضح کیا کہ ایم ایم اے عدم فعال ہے، ختم نہیں ہوئی، 2008ء کے انتخابات کے بعد جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے باہمی اختلافات کے باعث متحدہ مجلس عمل کو فعال نہ رکھا جا سکا، آئندہ مجوزہ دینی جماعتوں کے اتحاد میں مزید جماعتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں، اس حوالے سے رابطے جاری ہیں، اصولی طور پر سب کا انتخابی اتحاد پر اتفاق ہے تاکہ دینی حلقوں کا ووٹ بینک ضائع نہ ہو۔

انہوں نے ایک سوال جواب میں  کہا کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی نگر سے نشست اسلامی تحریک ہی کی ہے، جس پر مرحوم شیخ محمد علی جیتے تھے، ان کی وفات کے باعث خالی ہونیوالی اس نشست پر مرحوم کے بھائی شیخ محمد باقر امیدوار ہیں اور ان شاءاللہ وہی جیتیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور مجلس وحدت مسلمین بھی اسلامی تحریک کے امیدوار شیخ محمد باقر کی حمایت کر رہی ہیں۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬