06 September 2017 - 14:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429823
فونت
چو طرفہ مذمتوں کے بعد میانمار کی وزیرخارجہ اور حکومت کی مشیرآنگ سان سوچی نے صوبہ راخین کے حالات کے بارے میں غلط اطلاعات دینے کی بنا پرانتہا پسندبودھسٹوں کی مذمت کی ہے ۔
آنگ سان سوچی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آنگ سان سوچی نے ایسے عالم میں انتہا بودھسٹوں کو روہنگیا مسلمانوں کے گھر جلائے جانے اور عام شہریوں کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ جب انسانی حقوق کے مبصرین اور صوبہ راخین سے جان بچا کر بھاگنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کو میانمار کی فوج نے نذرآتش کیا اور فوج نے ہی انھیں نقل مکانی پر مجبور کیا ہے-

درایں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوٹرش نے سلامتی کونسل کو ایک خط بھیج کر روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش ظاہر کی ہے اور اسے انسانی المیہ قرار دیا ہے-

آنگ سان سوچی کو انیس سو اکیانوے میں امن کا نوبل انعام ملا تھا تاہم اب ان سے یہ انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے- مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ انھوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم اور ان کے بدترین حالات پر کیوں خاموشی اختیار کر رکھی ہے-/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬