06 September 2017 - 14:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429825
فونت
شام کی مسلح افواج کےسربراہ نے کہا ہے کہ شہردیرالزور کا محاصرہ ٹوٹنا دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی اور اسٹریٹیجک تبدیلی ہے
دیرالزور

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  شام کی مسلح افواج کے سربراہ  نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کامیاب سلسلہ وار کارروائیوں کے بعد شام کی فوج نے اپنے اتحادیوں اور شامی و روسی فضائیہ کی مدد سے بادیہ کے اندر تک اپنے آپریشن کا دوسرا مرحلہ بھی نہایت کامیابی سے مکمل کر لیا اور ایک زبردست آپریشن میں تین سال سے جاری دیرالزور کے محاصرے کو توڑ دیا- شامی فوج کے کمانڈر کے بیان میں آیا ہے کہ جن جوانوں نے دیرالزور کے آپریشن میں استقامت و پامردی کا مظاہرہ کیا اور شہریوں کا دفاع کرتے ہوئے یہ کامیابی رقم کی، وہ ایثار و قربانی کی مثال بن گئے ہیں- شام کی مسلح افواج کے کمانڈر نے اعلان کیا کہ دیرالزور کا محاصرہ ٹوٹنا، علاقے اور اطراف میں موجود باقی بچے داعش دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور اس کا دائرہ بڑھانے کا آغاز ہے کہ جن کی عسکری طاقت شامی فوج کے حملوں سے نہایت تیزی سے بکھراؤ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے- درایں اثنا شام کے صدارتی گارڈ کی ڈویژن ایک سوچار کے کمانڈر نے  کہا ہے کہ ایران، شام اور حزب اللہ  پر مشتمل استقامتی محاذ ہرگز ناکام نہیں ہوگا بلکہ جن لوگوں نےشام کے خلاف سازش کی انھیں شکست ہوگی- لبنان کے المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدارتی گارڈ کے ڈویژن ایک سو چار کے کمانڈر عصام زہرالدین نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، روس، شام اور حزب اللہ لبنان کا اسٹریٹیجک تعاون، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے اتحاد کا حقیقی نمونہ ہے-/۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬