18 December 2019 - 23:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441779
فونت
سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 کے خلاف درخواستوں پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے آج اگر چہ شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 کے خلاف درخواستوں پرمرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تاہم کورٹ نے قانون پرپابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 22 جنوری کو مقررکی۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی ڈویژن بنچ نے شہریت ترمیمی ایکٹ 2019 کو چیلنج کرنے والی کم از کم 59 درخواستوں کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگاہے۔

واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون سی اے اے کے خلاف پہلی عرضداشت مسلم لیگ نے دائر کی تھی۔ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ قانون آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اور اس کا واضح مقصد مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا ہے۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نئی دہلی میں طلباء کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انسانی حقوق باڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار کا کہنا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علموں پر پولیس کے تشدد اور طلباء کو ہراساں کرنے کے خلاف تفتیش ضرور ہونی چاہیے۔

اویناش کمار نے کہا کہ طالب علموں کے اختلافِ رائے کے حق کا احترام کیا جائے، واقعے میں 100 سے زائد طالب علم زخمی ہوئے تھے اور زخمی طالب علموں کی مدد کے لیے پولیس نے یونیورسٹی میں ایمبولنس کو بھی جانے نہیں دیا تھا۔

یاد رہے کہ ہندوستان میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف اپوزیشن جماعتوں اور عوام کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے جسکی وجہ سے ملک بھر کے مختلف شہروں میں مظاہروں کے ساتھ ساتھ ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔

احتجاج کے دوران 8 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں جن میں متعدد کی حالت نازک ہے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬