23 December 2019 - 09:34
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441801
فونت
نجف اشرف کے امام جمعہ:
نجف اشرف کے امام جمعہ نے اس بات کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہ اگر حوزہ علمیہ نہ ہوتا تو دین اسلام کا مٹ چکا ہوتا کہا: تعلیم اور تعلیم دونوں ہی کو ایک دوسرے کے ساتھ ہونا چاہئے ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی نجف اشرف سے رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف کے امام جمعہ حجت الاسلام سید صدرالدین قبانچی نے مدرسہ علمیہ امام مهدی (عجل الله تعالی فرجه الشریف) میں تقریر کے دوران کہا: حوزات علمیہ کا تعلیمی پروگرام، قران کریم کی سوره توبہ[1] کی 122ویں سے حاصل کیا گیا ہے ۔

انہوں ںے مزید کہا: حوزات علمیہ نے گذشتہ 1400 سال کے عرصہ میں دین اسلام کی بہت زیادہ خدمت کی کہ اگر حوزات علمیہ نہ ہوتے تو دین اسلام کا کہیں پتہ بھی نہ ہوتا ۔

حجت الاسلام قبانچی نے مذکورہ ایت کریمہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خداوند متعال نے تعلم و تعلیم کو ایک دوسرے کے ساتھ قرار دیا اور در حقیقت ان میں سے ہر ایک نصف راہ کا کردار ادا کرتا ہے یعنی نماز کے مانند ہے کہ اگر نماز ادھی پڑھی جائے تو یقینا مورد قبول واقع نہ ہوگی لہذا تعلیم اور تعلیم دونوں ہی کو ایک دوسرے کے ساتھ ہونا چاہئے ۔

انہوں نے مزید کہا: امیر المومنین علی (علیه السلام) می فرماتے ہیں کہ : «الْعِلْمُ مَقْرُونٌ بِالْعَمَلِ، فَمَنْ عَلِمَ عَمِلَ» [2] علم عمل کے ہمراہ ہے اگر کوئی حقیقی عالم ہوگا تو عامل بھی ہوگا ، یعنی اگر علم امر بالمعروف اور نهی عن المنکر، موعظہ، صلح رحم اور لوگوں کو انذار کے ہمراہ نہ ہو تو وہ علم مفید نہیں ہے ، اسی بنیاد پر حضرت امام محمد باقر(ع) نے فرمایا کہ «عالِمٌ یُنتَفَعُ بِعِلمِهِ اَفضَلُ مِن سَبعینَ اَلفٍ عابِدٍ» اپنے علم سے فائدہ اٹھانے والا عالم ستر ہزار عابد سے بہتر ہے ۔

------------------------------------------------------------------------

[1]  وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ صاحبان ایمان کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ سب کے سب جہاد کے لئے نکل پڑیں تو ہر گروہ میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے کیوں نہیں نکلتی ہے کہ دین کا علم حاصل کرے اور پھر جب اپنی قوم کی طرف پلٹ کر آئے تو اسے عذاب الٰہی سے ڈرائے کہ شاید وہ اسی طرح ڈرنے لگیں ۔

 [2] حکمت 366 نهج البلاغه

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پرطرفدارترین