05 June 2020 - 15:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442883
فونت
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور معمول کی زندگی شروع ہونے کے بعد شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی یو این آئی رپورٹ کے مطابق، مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا اور سماجی کارکنوں کی ایک تعداد نے جنوبی کولکتہ کے گڑیا ہاٹ کے بس اسٹینڈ پر جمع ہو کے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف احتجاج کیا۔

رپورٹ کے مطابق احتجاج کرنے والوں کے ہاتھوں میں ایسے بینر موجود تھے جن پر لکھا ہوا تھا کہ سب یاد رکھا جائے گا۔

احتجاجی مظاہرہ کرنے والے یونیورسٹی طلبا اور سماجی کارکنوں نے اسی کے ساتھ کورونا وائرس کے قہر اور لاک ڈاؤن کے دوران، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دیگر یونیورسٹیوں کے ان طلبہ و طالبات کی گرفتاری پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا جنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ، سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں میں سرگرم حصہ لیا تھا۔

اس موقع پر جادو پور یونیورسٹی کی سابق طالبہ امیتا چندرا نے مرکزی حکومت کے اس اقدام کو بزدلانہ قرار دیا اور کہا کہ تحریک کے دوران حکومت میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے مخالفین کو گرفتار کرنے کی جرائت نہیں تھی لیکن لاک ڈاؤن کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا جس سے انتہائی بزدلی اور گندی سیاست کی عکاسی ہوتی ہے۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں