19 July 2020 - 23:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443220
فونت
حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی :
آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئےکہ ایسے حالات فراہم کئے جائيں کہ کتاب معاشرے کی زندگی کا حصہ بن جائے کہا کہ : اسلامی معاشرے میں کتابخوانی کا رواج اور کتاب کے اثرات اتنے نہيں دیکھے جارہے ہیں جتنے اسلامی معاشرے میں ہونے چاہئيں ۔
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین   احمد مروی نے کتاب سال رضوی کے بارہویں بین الاقوامی میلے کی اختتامی  تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کو معاشرے میں ہمیشہ ہی اہمیت حاصل ہونی چاہیۓ اور اس کے اثرات نمایاں ہونے چاہئیں ۔

انہوں نے مزید کہا : اگر ہم  اپنے معاشرے پر دینی  علوم  ، اخلاقی و معرفتی اصول کو حکمفرما رکھنا چاہتے ہيں تو کتاب خوانی  کا  رواج معاشرے میں بہت ضروری ہے لیکن  افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے آج کے معاشرے میں کتاب خوانی  اور مطالعہ کی صورتحال اطمینان بخش نہيں ہے 

انہوں نے معاشرے میں اسلامی فلسفہ کو رائج کرنے کے تعلق سے رہبرانقلاب اسلامی  کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اسلامی فلسفہ پوری طرح غنی ہونے کے باوجود معاشرے میں اس طرح پھیل نہیں سکا جیسا کہ اس کا رواج ہونا چاہیۓ تھا اور صرف دینی مدارس ، یونیورسٹیوں اور علمی حلقوں تک محدود ہوکر رہ گیا۔ اس کے برعکس مغربی فلسفہ جو نہ تو اتنا غنی ہے اور نہ ہی اس میں اتنی گہرائی و گیرائی ہے کہ اسلامی فلسفے کا مقابلہ کرسکے ،اسے اہل مغرب نے اپنے معاشرے میں اتار لیا ہے اور معاشرے میں  مختلف سطح اور عمر کے لوگوں کے لیۓ کتابیں تیار کرلی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا ماحول پیدا کیا جانا چاہیۓ کہ کتاب معاشرے میں مرکزی حیثیت حاصل کرلے اور اسلامی و قرآنی تعلیمات اور معارف اہلبیت (ع) پر مبنی کتابیں معاشرے کی مختلف سطح کے مطابق فراہم اور شائع ہونی چاہئيں۔

زیارت کا اصل مقصد معرفت میں اضافہ کرنا ہے :

 حجت الاسلام مروی نے کہا  کہ کورونا کی وبا سے پہلے عام حالات میں ہر سال 30 ملین زائر مشہد مقدس آتے تھے اور یہاں ٹھرنے اور زیارت کرنے کی تعداد کو اگر مدّ نظر رکھیں تو سالانہ 120ملین لوگ روضے کی زیارت کیا کرتے تھے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو امام رضا علیہ السلام کو عالم آل محمد کی حیثیت سے پہچانتے ہیں  ہے اور بہت کم لوگ امام کی اس معرفت اور شناخت کے ساتھ یہاں آتے ہیں ۔ 

مذہبی اعمال اور رسومات میں غور و فکر  بہت ضروری ہے:

حجت الاسلام  مروی نے کہا کہ زیارت ایسی ہو کہ زائر کی مذہبی اور دینی معلومات اور دین کی معرفت و شناخت میں اضافہ ہو اور وہ اس حد تک ہو کہ زائر کی زیارت سے قبل اور بعد کی زندگی میں نمایاں طور پر تبدیلی نظر آئے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی مشہد آتا ہے وہ  امام رضا(ع) کی زیارت کے لیۓ آتا ہے نہ کہ سیاحت کے لیۓ ۔ اور کورونا کے سبب حرم کے بند ہونے سے یہ بات اور بھی ثابت ہوگئی ہے ۔ 

انہوں نے غور و فکر اور عقل و تدبّر سے کام لینے کے تعلق سے  آئمہ اطہار علیھم السلام کی اسلامی تعلیمات  کی جانب اشارہ کرتے ہوئے  کہا کہ یہ  غور و فکر اور تدبر و تعقل  ہمارے دینی اور معنوی اعمال اور رسومات میں پوری طرح ظاہر ہونا چاہیۓ۔ 

آستان قدس رضوی کے متولی نے ملک میں مطالعے اور کتابخوانی کی شرح کے کم ہونے اور زائرین کا حرم مطہر میں موجود کتاب خانوں کی طرف رخ نہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا : ہم زائرین کو مطالعے کی طرف کیسے راغب کریں اس کے لیۓ ہمیں علما و دانشوروں اور مصنّفین کی مدد لیںی ہوگی ۔ سالانہ تقریبا" 30 ملین افراد جن کا تعلق معاشرے کے مختلف طبقوں اور عمر کے لحاظ سے مختلف سن کے لوگوں  سے ہوتا ہے ، امام رضا علیہ السلام کے نورانی حرم میں آتے ہیں۔  تو یہ ہمارے لیۓ ایک بہترین اور بے نظیر موقع ہے جس سے ہمیں استفادہ کرنا چاہیۓ ۔

انہوں نے مزید کہا کہ افسوس اس بات کا ہے  کہ ہم میں سے اکثر لوگ عبادات کے بارے میں تاجرانہ اور نفع  و فائدہ کا تصور رکھتے ہیں یعنی ہم یہ عبادت اس لیئے انجام دے رہے ہیں تاکہ ہمیں ثواب ملے ۔ اور ثواب کے لیۓ ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ صرف دعائيں پڑھنے سے ملے گا کوئی اور کتاب پڑھنے اور آئمہ اطہار کی شناخت و معرفت حاصل کرنے کو ہم ثواب کا باعث نہیں سمجھتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مذہبی پروگرام  و مجالس میں صرف ثواب کے لیۓ شرکت کرتے ہیں معلومات اور شناخت بڑھانے کے لیۓ نہیں ۔

حجت الاسلام مروی کا کہنا تھا کہ یہاں پر عوامی فکر کو بیدار کرنے اور معاشرے میں آگہی پیدا کرنے میں دانشوروں اور مصنّفین کا کردار بہت اہم ہے۔ اور انہیں اس کام کو اپنا فرض سمجھنا چاہیۓ۔

انہوں نے انحرافی دینی عقائد کو ایک خطرناک رجحان بتایا اور کہا کہ   دینی اور عقیدتی انحراف و لغزش  غلط نظریات و عقائد اور سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور سرانجام انحراف کا شکار انسان دین کی راہ مستقیم سے بھٹک جاتا ہے۔   انہوں نے اہل قلم، مصنفین اور دینی امور کے محققین کو سفارش کی  کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کریں۔

 آستان قدس کے متولی  نے مزید کہا کہ تہذیب و ثقافت کے امور میں کاروبار اور نفع و نقصان کا کوئی گزر نہیں ہے، اسی طرح کتاب کی اشاعت کے شعبے میں بھی اعداد و شمار کو پیش نظر نہ رکھا جائے۔ ہمارے لئے یہ بات اہم نہیں ہے کہ کتنی تعداد میں کتاب شا‏ئع ہوئی ہے۔ کتاب کو منظر عام پر لاتے وقت صرف کیفیت کو دیکھا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ  میں سمجھتا ہوں کہ اگر سال میں صرف ایک کتاب شائع ہو مگر یہ ایک کتاب لاکھوں میں مقبول ہوجائے تو اس بات کی ہر چیز سے زیادہ اہمیت ہوگی اور اسی مقصد کے حصول کے لئے ہمیں بھرپور کوشش کرنا  چاہئے۔

آستا ن قدس رضوی کے متولی نےکہا کہ: امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ مطہر، عالم آل محمد کا گھر ہے اور عالم آل محمد کے گھر میں  کتاب اور کسب معرفت کا سلسلہ ضرور ہونا چاہئے، اس لئے تمام علما اور دانشوروں سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہماری مدد کریں کہ ہم،  لوگوں کو زیادہ سے زیادہ کتاب خوانی کی جانب مائل کرسکیں۔ ہم وہ دن دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہا ں امام رضا علیہ السلام کے حرم میں زائرین جب آئیں تو نماز  اور دعائیں وغیرہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ کتاب بھی پڑھیں ۔

انہوں نے اس سلسلے میں کہا کہ ہم ہر وہ راستہ اختیار کرنے اور ہر وہ طریقہ استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں جس سے یہاں حرم امام رضا (ع) میں لوگوں کو کتابوں کے پڑھنے یا مطالعے کی عادت ڈالی جا سکے۔ ہمارے پیش نظر یہ بات ہے کہ زائرین جب حرم مطہرمیں داخل ہوں  تو عبادت کے ساتھ ساتھ معرفت بھی حاصل کریں اور ہمارے پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ اطہار (ع) کی معرفت و اوران کی تعلیمات سے بھی مستفیض ہوں۔  

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬