‫‫کیٹیگری‬ :
28 December 2014 - 14:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7626
فونت
آیت الله علوی گرگانی :
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت‌ الله علوی گرگانی نے اس بیان کے ساتھ کہ صدر اسلام سے لے کر ابھی تک ہمارے بزرگ ، مراجع کرام اور علماء ہمیشہ تقریب مذاہب اور اتحاد کے پرچم دار رہے ہیں بیان کیا : ایک دوسرے کے مذاہب کے سلسلہ میں کھلے عام گستاخی اسلامی مسائل کے ہم آہنگ نہیں ہیں ؛ ہمارا مقصد الہی وحدت کے زیر سایہ رہنا ہے تا کہ نتیجہ حاصل کر سکے ۔
آيت‌ الله علوي گرگاني


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد حضرت آیت ‌الله سید محمد علی علوی گرگانی نے مجتمع عالی امام خمینی (ره) کے ذمہ دار اور «امت واحده» نمایشگاہ منعقد کرنے والے ممبروں سے ملاقات میں اس بیان کے ساتھ کہ صدر اسلام سے ابھی تک بزرگان ، مراجع کرام اور علماء ہمیشہ تقریب مذاہب اور وحدت کے پرچم دار رہے ہیں بیان کیا : اس پرچم داری کا نمونہ ہم لوگوں نے مرحوم حضرت آیت ‌الله برجرودی کے زمانہ میں مشاہدہ کیا ہے ۔

انہوں نے وضاحت کی : دین اسلام منطق اور استدلال کا دین ہے کہ جو ہمیشہ انسان کو اتحاد ، یکجہتی اور برادری کی طرف دعوت دیتا ہے کیونکہ اتحاد کے ذریعہ تمام کاموں کو اچھی طرح انجام دیا جاتا ہے اور ہر مذہب اپنے لئے خاص نظریہ رکھتا ہے اور اس سے اپیل کی جائے کہ اپنے مسائل کو منطق اور استدلال کے ساتھ بیان کرے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور استاد نے اس تاکید کے ساتھ کہ پیامبر اکرم (ص) عالمین کے لئے رحمت ہیں یعنی رحمت للعالمین ہیں بیان کیا : ہمارے نظر میں امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت صرف شیعوں کے لئے نہیں ہے ؛ وحدت بھی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کو صرف انسان چاہتا ہے بلکہ یہ خدا بھی چاہتا ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : خیال نہ کیا جائے کہ وحدت صرف مسلمانوں کے لئے ہے بلکہ خدا چاہتا ہے کہ دوسرے ادیان کے درمیان بھی اتحاد پایا جائے ، وحدت صراط الله ہے اور شیطان کا مقصد اختلاف پیدا کرنا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے تیسرا محاذ قائم کرے اور ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کے دشمن ہمارے اور اہل سنت کے دشمن ہیں ۔

حضرت آیت ‌الله علوی گرگانی نے وضاحت کی : ہم سب لوگوں کو «لا اله الا الله» کے پرچم کے سایہ میں جمع ہونا چاہیئے ؛ مختلف مذاہب یہاں تک کہ اہل بیت علیہم السلام کے زمانہ میں بھی موجود تھے ؛ دوسرے مذاہب کا مزاق نہیں بنانا چاہیئے ، بلکہ قوم کے بزرگ اپنی باتوں کو منطق اور دلیل کے ساتھ بیان کریں ۔ 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬