‫‫کیٹیگری‬ :
17 April 2016 - 20:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9277
فونت
آیت‎الله جوادی آملی:
حضرت آیت ‎الله جوادی آملی نے حدیث «لاطاعه لمخلوق فی معصیه الخالق»، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اگر کوئی مخلوقات کی اطاعت کے لئے خدا کی معصیت کرنا چاہے تو یہ صحیح نہیں ہے ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث ان مستحکم اصول کا حصہ ہے جو نہ تخصیص قبول کرتے ہیں اور نہ ہی تقیید ۔
آيت‎الله جوادي آملي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مفسر عصر حضرت آیت ‌الله عبدالله جوادی آملی نے ایران کے مقدس شہر، قم کی مسجد آعظم میں منعقدہ اپنے تفسیر کے درس میں سورہ مبارکہ احقاف کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : سورہ مبارکہ احقاف کہ جو مکہ مکرمہ میں نازل ہوا، اس میں خداوند متعال نے توحید کے مسائل کو بیان کرنے کے بعد وحی و نبوت کے بعض گوشے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں دو قسمیں ہیں ، بعض خدا کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور نبی(ص) پر سحر و جادو کا بہتان باندھتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے خداوند عالم نے فرمایا ہے کہ ای پیغمبر ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ تم خدا کے پہلے پیغمبر نہیں ہو اور نہ ہی یہ میرا پیغام پہلا پیغام ہے اور پھر اس نے فراوان شواہد و دلائل کا ذکر کرتے ہوئے اس گروہ کے دل پر لگی ہوئی مہر  کا تذکرہ کیا ہے ۔


آیت‎ الله جوادی آملی نے سورہ مبارکہ احقاف کی ۱۵ وین آیات کی تفسیر میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ خداوند متعال نے اس گروہ کے مقابلے میں ایک دوسرے گروہ کا ذکر کیا ہے کہ جو پروردگار کو اپنا خدا مانتے ہیں اور اس پر استقامت کرتے ہیں کہا: خداوند عالم نے اس گروہ کو دوسری مثال میں یوں بیان کیا کہ ایک گروہ وہ ہے کہ جو شروع سے ہی اپنے ماں اور باپ کے ساتھ نیکیاں کرتا ہے اور اپنے خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر بجا لاتا ہے ، یہ وہ گھرانے ہیں جو صحیح تربیت کی وجہ سے کامیاب و کامران ہیں جبکہ ان کے مقابل ایک ایسا گروہ بھی ہے جو غلط تربیت کی وجہ سے نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے ۔


قرآن کریم کے مشہور و معروف مفسر نے اس بیان کے ساتھ کہ پیغمبروں (ص) اور معصومین (ع) جیسا کامل انسان کہ جن کا ایمان کامل ہے بیان کیا : خود کو اپنا پروردگار ماننے والے اور استقامت کرنے والے افراد ایمان کے مختلف مدارج پر فائز ہیں ، اس طرح کہ پیغمبروں (ص) اور معصومین (ع) کا جواب خود خداوند عالم دیتا ہے ، مومنوں کا جواب درمیانی فرشتے دیتے ہیں اور کم درجہ کے مومنوں کا جواب کم درجہ کے فرشتے دیتے ہیں ۔


انہوں نے کہا : فراق الہی کا خوف شئی محمود ہے کہ انسان اس خوف سے گلہ مند یا اس کے ختم ہونے کی آرزو نہ کرے کیوں کہ یہ خوف مقام الہی ہے اور وہ اس لئے ہے کہ اس سے انسان کو پروردگار کا قرب حاصل ہوتا ہے ، لھذا یہ وہ پسندیدہ عمل ہے جس کے ختم ہونے کی امید نہیں کرنی چاہئے ۔


مفسر عصر نے مزید بیان کیا: بہشت میں جانے والا ھر انسان اپنے حزن و اندوہ کے خاتمے پر پروردگار کا شکر گزار ہوگا لھذا اگر کوئی دنیا اور آخرت میں خوف سے دور رہنا چاہتا تو لازمی ہے کہ کہے کہ خداوند ہمارا پروردگار ہے اور اس پر استقامت کرے ۔


حضرت آیت‎ الله جوادی آملی نے بیان کیا : ماں اور باپ فیض الہی کے باب اور اس کی خالقیت کا مظہر ہیں جیسا کہ قران میں آیا ہے «ان اشکر لی و لوالدیک ، میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کا شکر کرو » ۔


انہوں نے مزید کہا: خداوند متعال نے سورہ احقاف کے اس آیت میں ماں باپ کے ساتھ فقط نیکی و احسان کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جتنا بھی نیک و خیر کرسکتے ہو ان کے سلسلہ میں انجام دو ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬