

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں تیونس کی پارلیمانی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے اسپیکر علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا امریکہ اور اسرائیل کی دیرینہ پالیسی ہے جس کا مقصد عالم اسلام کو کمزور بنانا ہے۔
ایران کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ مسلم امہ باہمی اتحاد اور ہوشیاری کا مظاہرہ کرکے اس سازش کو ناکام بناسکتی ہے۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ مسلمان ملکوں کے درمیان اتحاد کا قیام اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے اس بات پرافسوس کا اظہار کیا کہ بعض مسلم حمکرانوں کی کج فکری کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم نہیں ہو پارہا۔انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور تیونس کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات تیزی کے ساتھ فروغ پا رہے ہیں اور تہران اپنے پارلیمانی تجربات تیونس کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس موقع پر تیونس کے پارلیمانی وفد کی سربراہ محترمہ مبارکہ ابراھیمی نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی اہم اور دونوں ملکوں کے عوامی مفادات کے آئینہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ مسلسل ایرانو فوبیا پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اورعالم اسلام پر اپنی پالیسیاں مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
تیونس کے پارلیمانی وفد کی سربراہ نے یمن پر سعودی جارحیت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے سعودی جنگی طیاروں کے حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے پر گہری تشویش ظاہر کی۔
محترمہ مبارکہ ابراہیمی نے شام کی حکومت اور عوام کے لیے ایران کی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دشوار حالات میں اسلامی جہموریہ ایران ہی شامی عوام اور حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔/۹۸۸/ن۹۴۰