03 December 2016 - 12:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424846
فونت
حجت الاسلام مختار امامی:
حجت الاسلام مختار امامی نے کہا:خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا، نیشنل ایکشن پلان جھنگ کے ضمنی انتخابات کے بعد اپنی افادیت مکمل طور پر کھو چکا ہے ۔
حجت الاسلام مختار احمد امامی



رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ کالعدم جماعتوں کے سرگرم اراکین کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مواقع فراہم کرنا ملک کی مزید تباہی سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔ وحدت ہاؤس میں کارکنان سے جھنگ الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعت لشکر جھنگوی ملک میں دہشت گردی کی ہونے والی متعدد کاروائیوں میں ملوث ہونے کا خود اعتراف کر چکی ہے، قومی سلامتی کے تمام ادارے اس بات سے باخبر ہیں کہ مسرور جھنگوی کا تعلق کس گروپ سے ہے، ایسے شخص کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے کر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی رہی سہی ساکھ بھی تباہ کر دی ہے، اب یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملک کے مقتدر اداروں کے ذمہ داران کے فیصلے قانون و آئین کے مطابق ہونے کی بجائے کہیں اور سے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اس تاثر کو دانستہ طور پر تقویت دی جا رہی کہ پاکستان میں انتہا پسند جماعتوں کو عوامی تائید حاصل ہے اور پاکستان کی عوام تکفیری گروہوں کو حامی ہے، عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ثابت کرنے کی اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے تمام معتدل سیاسی و مذہبی قوتوں کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔

علامہ مختار امامی کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں کو پاکستان کی سالمیت و استحکام سے کوئی غرض نہیں، ان کے سارے اثاثے بیرون ممالک میں ہیں، یہ ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اقتدار پر مسلط ہیں، قانون و اختیارات کو انتقامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنایا جانے والا نیشنل ایکشن پلان جھنگ الیکشن کے بعد اپنی افادیت مکمل طور پر کھو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح تکفیری اور انتہا پسند عناصر کو الیکشن جتوا کر اسمبلیوں میں لایا جاتا رہا، تو پھر دہشت گرد آزاد اور عام شہری اپنے گھروں میں مقید دکھائی دیں گے۔/۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬