16 March 2017 - 19:25
News ID: 426921
فونت
صاحبزادہ حامد رضا:
سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ امریکہ کو بھارت کے غیر محفوظ ایٹمی ہتھیاروں سے دنیا کی تباہی کا احساس ہونا چاہئے، پاکستان دشمن طاقتیں پاک فوج اور عوام میں فاصلے پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، پاک بھارت بامقصد مذاکرات خطے کے امن کیلئے ضروری ہیں ۔
صاحبزادہ حامد رضا


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے فیصل آباد کے جامعہ رضویہ میں کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاناما کیس فیصلے کے بعد سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا، حکومت سائبر ایکٹ کو اپوزیشن کی آواز دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے، حسین حقانی کے اعترافات کی تحقیقات ضروری ہے، غدار وطن حسین حقانی کو ملک میں واپس لانے کیلئے ضروری کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام میں تعطل دور کیا جائے، حکمرانوں پر لبرل ازم کا بھوت سوار ہے اور انہیں اسلام سے کوئی غرض نہیں، دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھارت کے غیر محفوظ ایٹمی ہتھیاروں سے دنیا کی تباہی کا احساس ہونا چاہیئے، پاکستان دشمن طاقتیں پاک فوج اور عوام میں فاصلے پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔

صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ پاک بھارت بامقصد مذاکرات خطے کے امن کیلئے ضروری ہیں، پاناما کیس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوچکا ہے، ہمارے آمرانہ مزاج رکھنے والے حکمران اختلاف رائے برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، ملک دشمن لابی غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ہر وقت پاک فوج کیخلاف سازشوں میں مصروف رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے سارے مخالفین وزیراعظم کے اتحادی اور چہیتے ہیں، 4 جماعتی اتحاد آئندہ الیکشن میں بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئے گا، اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوششیں جلد نتیجہ خیز ثابت ہونگی، ن لیگ جنرل ضیاء جیسے آمر کی پیدوار ہے اس لئے ن لیگ کا جمہوریت کا چمپئن بننا مذاق ہے۔

اجلاس میں مفتی محمد حبیب قادری، صاحبزادہ معاذ المصطفیٰ قادری، مولانا محمد اکبر نقشبندی، الحاج محمد سرفراز تارڑ، صاحبزادہ بیرسٹر حسین رضا ، ملک بخش الٰہی،مولانا محمد علی نقشبندی، میاں فہیم اختر ، صاحبزادہ حسن رضا، مفتی محمد مقیم خان، راؤ حسیب احمد ، ارشد مصطفائی ، چوہدری نثار علی ایڈووکیٹ، مفتی محمد رمضان جامی ، حاجی رانا شرافت علی قادری نے بھی شرکت کی۔ /۹۸۹/ف۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬