21 April 2017 - 22:50
News ID: 427649
فونت
پریم سنگھ نے کہا کہ مقامی قبائلی نوجوانوں پر مشتمل ایک گوفان بٹالین بنائی جانی چاہیے اور اسے سنگ بازی سے نپٹنے کے لئے کشمیر میں تعینات کیا جانا چاہئے۔ یہ بٹالین سنگ بازوں کے لئے موزوں جواب ہوگا۔
کشمیر

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ھندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے قبائلی نوجوانوں نے جموں و کشمیر میں سنگ بازوں سے نپٹنے کے لئے قابض فورسز کو مدد کی پیشکش کی ہے۔

مغربی مدھیہ پردیش کے قبائلی ضلع جبوہ کے نوجوانوں جنہیں گلیل سے پتھر مارنے کی مہارت حاصل ہے، نے کشمیر میں قابض فورسز کے ساتھ مل کر پتھراﺅ کرنے والوں سے نپٹنے کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ لکھی پورہ گاﺅں کے نوجوان پریم سنگھ نے کہا کہ مقامی قبائلی نوجوانوں پر مشتمل ایک گوفان بٹالین بنائی جانی چاہیے اور اسے سنگ بازی سے نپٹنے کے لئے کشمیر میں تعینات کیا جانا چاہئے۔ یہ بٹالین سنگ بازوں کے لئے موزوں جواب ہوگا۔ کانگریس اور بی جے پی نے بھی مقامی نوجوانون پر مشتمل ایسے سیکارڈ کی تشکیل کی حمایت کی ہے، جو اس فن میں مہارت رکھتے ہیں۔

کانگریس کے سابق ایم ممبر اسمبلی جوبا زیویر میدھا نے کہا کہ حکومت کو گوفان سنگ باز سیکارڈ بنانا چاہئے تاکہ کشمیر میں سنگ بازوں سے نپٹا جاسکے یہ احتجاجی صوتحال سے نپٹنے میں نہ صرف موثر ہوگا بلکہ مستقبل میں بھی اس طرح کی صورتحال سے نپٹ سکے گا، فوج احتجاجیوں پر گولی نہیں چلا سکتی لیکن یہ سیکارڈ انہیں منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے شانتی لال بلوال نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فوجی جوان ہماری حفاظت کرتے ہیں لیکن وہ قانونی بندشوں کی وجہ سے احتجاجیوں پر گولیاں نہیں چلا سکتے، حکومت کو ایسی صورتحال سے نپٹنے کے لئے ان نوجوانوں کی مدد حاصل کرنی چاہئے۔ تاہم کچھ قبائلی آوزیں ایسی بھی ہیں جنہوں نے اس تجویز کی محالفت کی ہے۔

بھارتی وزیر کانتی لال بوریا کے فرزند اور کانگریس لیڈر ڈاکٹر وکرانت بوریا کا کہنا تھا ”ہم آگے بڑھ رہے ہیں کشمیر نوجوان پاکستانی پروپگنڈا کی وجہ سے گمراہ ہوچکے ہیں۔ ہمیں عدم تشدد کا سہارا لینا چاہئے اور ہمیں قبائلی نوجوانوں کو تعلیم دینی چاہئے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬