16 October 2017 - 13:25
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430401
فونت
ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملت جعفریہ کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ملت کے لاپتہ نوجوانوں پر اگر کوئی الزامات ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے سزائیں دلائی جائیں، عدالتوں میں پیش نہ کیا جانا اس حقیقت کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ ملت تشیع کے نوجوانوں کو بلاجواز حراست میں رکھا ہوا ہے۔
عمائدین کی پریس کانفرنس

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  شیعہ مسنگ پرسنز ریلیز کمیٹی جنوبی پنجاب کے رہنمائوں نے جامعہ شہید مطہری میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے چلائی جانے والی ''جیل بھرو تحریک'' کی حمایت میں پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس سے آستانہ لعل شاہ کے گدی نشین و ممبر امن کمیٹی ملتان مخدوم عباس رضا مشہدی، متولی امام بارگاہ ابوالفضل العباس و صدر انجمن تحفظ عزاداری ملتان سید اسد عباس بخاری، سابق صدر تحریک جعفریہ پاکستان قاضی غضنفر حسین اعوان ایڈووکیٹ، سید اقبال مہدی زیدی ایڈووکیٹ سابق نائب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان، انجمن حیدریہ کے رہنما سید شعیب نقوی، انجمن یادگار حسینی ممتاز آباد کے صدر سید منظر عباس زیدی، انجمن ندائے حسینی کے صدر سید قمر عباس زیدی، انجمن حیدریہ گلگشت کے رہنما عترت عباس، متولی سید عارف اختر کاظمی، سید ذکی نقوی، مہر مظہر عباس کات، مسجد آل محمد کے بانی غلام عباس بلوچ، حسنین کربلائی، سید دلاور عباس زیدی، ملک عامر کھوکھر، ممتاز حسین ساجدی، سید ناصر عباس گردیزی نے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو جبری لاپتہ کرنا قانون و انصاف کا قتل اور آئین پاکستان سے صریحا انحراف ہے۔ جمہوری حکومت کے اس آمرانہ اقدام کے خلاف ملک کی ہر گلی محلے میں آواز بلند کی جائے گی، نواز حکومت کے دور میں شیعہ افراد کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا ہمیشہ آغاز ہوتا رہا ہے، جب تک ملت تشیع کے لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کرایا جاتا تب تک ہماری جیل بھرو تحریک جاری رہے گی۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬