‫‫کیٹیگری‬ :
23 June 2018 - 13:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436359
فونت
سید عباس عراقچی:
سنیئر ایرانی سفارتکار نے جوہری معاہدے کی آئندہ صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ جوہری معاہدے میں ایران کے شامل رہنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ یورپی ممالک، روس اور چین مثبت اقدامات اٹھائیں.
سید عباس عراقچی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سنیئر ایرانی سفارتکار سید عباس عراقچی نے روس کے دارالحکومت ماسکو کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  توقع ہے کہ دوسرے فریق ایرانی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ ایران کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کی راہ کو ہموار کریں گے۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا کہ دوسرے فریق کے ساتھ جامع مذاکرات کے بعد یہ پتہ چلے گا کہ ایران کے جوہری معاہدے میں شامل رہنے سے کیا ایران کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا یا نہیں.

انہوں نے جوہری معاہدے سے متعلق روس سے ایران کی توقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران روس تعلقات جوہری معاہدے سے بڑھ کر ہیں لہذا یہ تعلقات چاہے جوہری معاہدہ ہو یا نہیں برقرار رہیں گے.

سید عباس عراقچی نے کہا کہ روس کے جوہری معاہدے پر موقف تعمیری ہے اور وہ ایرانی مطالبات کی منظوری اور مفادات کی فراہمی پر زور دیتا ہے.

دوسری جانب انہوں نے برسلز میں ایران اور یورپ کے اقتصادی اور سائنسی تعاون سے متعلق دوسری بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر یورو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ ایٹمی معاہدے پر سبھی فریق پوری طرح سے عمل کریں-

ان کا کہنا تھا کہ اگر یورپ اور معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر فریق چاہتے ہیں کہ معاہدہ باقی رہے تو انہیں زیادہ فداکاری کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور ایران کے خلاف امریکا کی دوبارہ عائد کی گئی پابندیوں کی انہیں تلافی کرنی ہو گی-

ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ یورپ کو چاہئے کہ وہ ایٹمی معاہدے کو بچانے اور امریکی پابندیوں کو ناکام بنانے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرے-

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں یورپی کمپنیوں کی موجودگی اور ایران کے ساتھ بینکنگ کے شعبے میں تعاون  تہران کے لئے بے حد اہم ہے- /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬