22 December 2019 - 23:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441798
فونت
بعض تجزیہ کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ نریندر مودی کی جانب سے اپنائی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ملک میں ایک خاص قسم کا عقیدہ حکم فرما ہونے کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس کا نتیجہ ملک میں تناو اور افراتفری کی صورت میں نکلے گا ۔

تحریر: علی احمدی

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے کشمیر میں ہزاروں مسلمانوں کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس علاقے کی خودمختاری ختم کر دی ہے۔ دوسری طرف انہوں نے شمال مشرقی بھارت میں شہریوں کی تشخیص کا نیا طریقہ کار متعارف کروایا ہے جس کے نتیجے میں 2 کروڑ افراد جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اپنی شہریت اور تشخص سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اسی طرح نریندرا مودی نے ایک خطرناک جوا شروع کر رکھا ہے اور وہ شہریت کا نیا قانون ہے۔ اس قانون کی رو سے جنوبی ایشیا میں اسلام کے علاوہ باقی تمام ادیان کو سرکاری حیثیت دی گئی ہے جس کے باعث ملک بھر میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جیفری گیٹل مین اور ماریا ابی حبیب نے 17 دسمبر 2019ء کے دن نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں لکھا: "مخالفین کے بقول یہ قانون بڑی آسانی سے گذشتہ ہفتے دونوں ایوانوں میں منظور کر لیا گیا ہے۔ اس قانون کی منظوری اس بات پر واضح دلیل ہے کہ نریندرا مودی بھارت کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے درپے ہے جس کے نتیجے میں بھارت کے 20 کروڑ مسلمان اپنے مسلمہ شہری حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔"

رپورٹ میں مزید آیا ہے: "جب سے انڈیا میں نریندرا مودی برسراقتدار آئے ہیں مسلمان شہری مسلسل ان کے ظالمانہ اقدامات کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ سے ان کی قوم پرست ہندو پالیسیوں کی مخالفت کی ہے۔ اب بھی گذشتہ کئی روز سے بھارت کے مختلف شہروں میں بڑے عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان شہروں میں ممبئی، چنائے، واراناسی، گواہاٹی، حیدرآباد، بھوپال، پٹنا اور پونڈیچرے شامل ہیں۔ نریندرا مودی کے حالیہ اقدامات پر مسلمانوں میں شدید پریشانی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے عوامی احتجاج کے مقابلے میں سکیورٹی فورسز کا استعمال کیا ہے۔ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے، کشمیر کی طرز پر کرفیو لگا دیا گیا ہے اور نیو دہلی میں پولیس نے نہتے طالب علموں کو شدید زد و کوب کا نشانہ بنایا ہے۔ ان طالب علموں کو زمین پر کھینچا گیا ہے اور ان میں سے اکثر اسپتال میں داخل ہو گئے ہیں۔ آسام میں بھی کئی جوان جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان ہنگاموں کے دوران بھارتی عوام کی اکثریت خاموش ہے۔ بھارت کی تقریباً 80 فیصد آبادی ہندو ہے جبکہ 14 فیصد مسلمان ہے۔ مئی کے مہینے میں منعقد ہونے والے الیکشن میں نریندرا مودی کی پارٹی کو ہلکی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔"

اقوام متحدہ کے عہدیدار، امریکی حکام اور سیاست دان، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور مذہبی تنظیمیں نریندرا مودی کے اس اقدام کی مذمت کر چکی ہیں اور اسے واضح امتیازی اقدام قرار دے چکے ہیں۔ بعض حکام نے تو پابندیوں کا بھی عندیہ دیا ہے۔ خود بھارت کے اندر حکومت مخالف قوتوں نے اس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور وزیراعظم نریندرا مودی پر بھارت کو ایک سیکولر ریاست سے نکال کر انتہاپسند ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بھارت کی سپریم کورٹ کے سابق جج بی این سری کرشنا کا کہنا ہے: "یہ ایک مذہبی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ملک کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ ملک میں بدامنی اور انارکی پھیل جائے گی۔" وہ مزید کہتے ہیں: "ملک میں مستقل بنیادوں پر شدت پسندانہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔" یوں دکھائی دیتا ہے کہ نریندرا مودی قوم پرستانہ اور فرقہ وارانہ شدت پسندانہ اقدامات کے عادی ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں بدترین قتل عام 2002ء میں بھارت کی ریاست گجرات میں دیکھنے کو ملا جو نریندرا مودی کی سرپرستی میں انجام پایا تھا۔

گجرات کے فسادات کے موقع پر نریندرا مودی اس ریاست کے اعلی سطحی حکام میں شامل تھے اور ان فسادات میں 1 ہزار سے زیادہ افراد موت کا شکار ہو گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ نریندرا مودی ان فسادات میں خاموش تماشائی بنے رہے اور جان بوجھ کر شدت پسند ہندووں کو مسلمانوں کے قتل عام کا موقع فراہم کیا۔ عدالت نے بھی انہیں بری کر دیا۔ لیکن عوام کی اکثریت انہیں ان فسادات اور بیگناہ افراد کے قتل عام میں قصوروار سمجھتی ہے۔ اگرچہ ملک کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے لیکن نریندرا مودی بدستور اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں۔ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں انتشار کا شکار ہیں اور وزیر داخلہ امیت شا جو نریندرا مودی کے دست راست ہیں نے انہیں دبا کر رکھا ہوا ہے۔ لیکن اب اس متنازعہ قانون کی منظوری کے بعد اپوزیشن کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ اپوزیشن لیڈران جو اس سے پہلے کسی مسئلے پر متفق نہیں ہوتے تھے اب مل کر حکومت مخالف مظاہروں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی جا رہی ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا: "یہ قانون بھارت میں کسی شہری یا مذہب کو متاثر نہیں کرے گا۔" انہوں نے مزید لکھا: "اس وقت ضروت اس بات کی ہے کہ ہم سب آپس میں تعاون کریں۔" شہریت سے متعلق منظور ہونے والا یہ نیا قانون نریندرا مودی کی دیرینہ آرزو تھی اور ان کے ہندو حامیوں کا پرانا مطالبہ تھا۔ نریندرا مودی کے حامی بھارت کو ہندو ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ وہ نریندرا مودی سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ہندو ورثے کی حفاظت کرے اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حق میں بنے ہوئے قوانین ختم کر دے۔ بعض تجزیہ کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ نریندرا مودی کی جانب سے اپنائی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ملک میں ایک خاص قسم کا عقیدہ حکمفرما ہونے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اس کا نتیجہ ملک میں تناو اور افراتفری کی صورت میں نکلے گا جس کے باعث ملک کی اقتصادی صورتحال ابتر ہو جائے گی۔ مزید برآں، ہمسایہ ملک پاکستان سے بھی بھارت کے تعلقات متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

بھارت کے سیاسی تجزیہ کار یوگیندرا یادیو اس بارے میں کہتے ہیں: "ہم ایک شکست خوردہ آرزو کے پیچھے ہیں۔" شہریت سے متعلق نیا قانون جو اصلاح شہریت کا قانون کہلاتا ہے بعض ہمسایہ ممالک سے ہجرت کر کے آنے والے افراد کی شہریت کے عمل میں تسہیل کرے گا۔ ایسے افراد جن کا مذہب ہندو، عیسائی، بدھ مت، سکھ یا جین ہو گا۔ اس قانون میں واحد دین جسے نظرانداز کر دیا گیا ہے اسلام ہے۔ بھارتی حکمرانوں نے مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو مسترد کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس قانون کا مقصد پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ہندو مذیب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھارت ہجرت کو آسان بنانا ہے۔ یہ قانون ایسے افراد کو بھارت لا کر انہیں شہریت عطا کرنے کے مقصد سے بنایا گیا ہے۔ اس قانون کی منظوری سے پہلے بھارتی حکومت نے شمالی ریاستوں میں سے ایک میں شہریت کی تشخیص کا عمل بھی شروع کیا تھا۔ یہ عمل مستقبل قریب میں پورے ملک میں انجام دیے جانے کا امکان ہے۔ بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب آسام کے تمام شہریوں سے ایسی دستاویزات کا مطالبہ کیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ان کے آباء و اجداد 1971ء سے بھارت میں مقیم ہیں۔ آسام کی کل آبادی تین کروڑ کے قریب ہے جس میں سے 20 لاکھ افراد ایسی دستاویزات پیش نہیں کر سکے۔

ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ بھارتی حکومت بڑی بڑی جیلیں بنوا رہی ہے تاکہ ایسے افراد جن کی شہریت ثابت نہیں ہوتی انہیں ان جیلوں میں قید کر دیا جائے۔ ملکی سطح پر یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ بھارتی حکومت شہریت کی تشخیص کے عمل اور شہریت سے متعلق نئے قانون دونوں کو مسلمان شہریوں کے حقوق پامال کرنے کیلئے بروئے کار لائے گی۔ ایسے مسلمان شہری جو نسل در نسل اس ملک میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اکثر مسلمان شہری اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ ان سے ان کی شہریت ثابت کرنے کیلئے ایسی دستاویزات کا مطالبہ کیا جائے جسے وہ فراہم کرنے سے عاجز ہوں۔ دوسری طرف غیر مسلم افراد کو اس نئے قانون کی رو سے آسانی سے شہریت فراہم کر دی جائے گی۔ لہذا اس نئے قانون کی زد میں صرف مسلمان آئیں گے۔ گذشتہ ہفتے آسام میں شروع ہونے والے عوامی مظاہروں کی قیادت ہندو کر رہے تھے لیکن مسلمان اور عیسائی بھی ان سے ملحق ہو گئے ہیں۔ وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ یہ نیا قانون ملک میں قومی اور فرقہ وارانہ تعصب کا باعث بنے گا۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پرطرفدارترین