29 June 2013 - 17:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5590
فونت
آیت اللہ سید احمد خاتمی:
رسا نیوز ایجنسی – حوزہ علمیہ قم کے مشھور استاد آیت اللہ سید احمد خاتمی نے شہید شیخ حسن شحاتہ اور انکے ھمراہ شہیدوں کی مجلس ترحیم میں خطاب میں وہابی مفتیوں اور غاصب صیہونیت اسرائیل کو اس مجرمانہ فعل کا حقیقی ذمہ دار ٹھرایا۔
آيت اللہ سيد احمد خاتمي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے ممتاز عالم دین اور تہران کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے گذشتہ روز شہید شیخ حسن شحاتہ اور انکے ھمراہ شہیدوں کی مجلس ترحیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا: مصر میں پیروان مکتب اہلبیت علیھم السلام کے خلاف شدت کی تازہ لہر کا اصل سبب وہابی مفتیوں کے تکفیری فتوے اور اسرائیلی صیہونیسیم کا غاصب وجود ہے۔


آیت اللہ سید احمد خاتمی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مصر کے علاوہ عراق اور دوسرے اسلامی ممالک سے بھی سلفی تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں بیگناہ شیعہ مسلمانوں کی شہادت کی خبریں سننے میں آتی ہیں تاکید کی : مصر کے گاوں الجیزہ میں انجام پانے والا مجرمانہ فعل تاریخ میں ہمیشہ سے دیکھنے کو ملتا ہے اور آئندہ بھی ملتا رہے گا لیکن ہم آج اسلام کے نام پر انجام پانے والے مجرمانہ کارنامہ سے روبرو ہیں، وہابی تکفیری دہشت گرد گروہ، اسلام سے خیانت کرتے ہوئے اسلام کے نام پر بیگناہ مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں۔


انہوں ںے یہ کہتے ہوئے کہ ہم اہلسنت کو وہابیت سے جدا سمجھتے ہیں اور علماء اہلسنت نے وہابیت کے خلاف تقریبا 30 کتابیں لکھی ہیں کہا: وہابی تکفیری دہشت گرد گروہ کا مقصد حقیقی اسلام کے چہرے کو مخدوش کرنا ہے۔


آیت اللہ سید احمد خاتمی نے مزید کہا: وہابیت کا آغاز پہلے دن سے ہی مجرمانہ افعال اور بیگناہ انسانوں کے قتل سے ہوا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہابیت عالمی استعماری قوتوں بالخصوص برطانیہ کا بویا ہوا بیج ہے ۔  


انہوں نے 1216 ہجری قمری میں انجام پانے والے دہشت گردانہ منصوبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس سال 12 ہزار افراد پر مشتمل وہابی تکفیری لشکر نے شہر مقدس کربلا پر حملہ کیا اور وہاں بسنے والے تمام بیگناہ افراد کا قتل عام کردیا جس میں ہزاروں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی شامل تھے، اس المناک واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 3 ہزار سے لے کر 20 ہزار تک بیان کی گئی ہے۔

 

آیت اللہ سید احمد خاتمی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ وہابی شیعہ مسلمانوں کو مشرک اور کافر کہتے ہیں جس کی بنیاد پر وہابی دہشت گرد گروہ شام سمیت کئی مسلم ممالک میں شیعیان اہلبیت علیھم السلام کے خلاف ایسے جانسوز غیرانسانی افعال انجام دے رہے ہیں جن کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہا : ان مجرمانہ افعال کی چند مثالیں ہمیں شام میں نظر آئی ہیں جہاں ایک تکفیری دہشت گرد نے شامی فوجی کو قتل کرنے کے بعد اس کا دل نکال کر دانتوں سے کاٹ لیا یا ایک گاوں میں صرف شیعہ ہونے کے جرم میں ایک معصوم بیگناہ بچی کو زنجیروں سے باندھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے انتہائی بے دردی سے اس کے ماں باپ کو قتل کر دیا گیا۔

 

تہران کے امام جمعہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کی لہر کے تین بڑے اسباب ہیں تاکید کی : ایک وہ دہشت گرد افراد جو یہ دہشت گردانہ افعال انجام دے رہے ہیں، یہ وہ افراد ہیں جن کے ذھنوں کو خالی کردیا گیا ہے  اور وہ عبادت سمجھتے ہوئے بیگناہ انسانوں کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔


انہوں نے اس سلسلہ میں موجود مثالوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: کربلا میں خودکش حملہ انجام دینے والے دہشت گرد نے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد اپنے اعترافات میں کہا کہ مجھے ایک بیابان میں جا کر خود کو بم سے اڑانے کی اجازت دیں کیونکہ میں آج رات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مہمان ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ذھنوں کو دھلدیا گیا ہے ۔


آیت اللہ خاتمی نے یہ کہتے ہوئے کہ اس فرقہ وارانہ دہشت گردی کا دوسرا بڑا سبب تکفیری وہابی مفتی ہیں جو اپنے بے بنیاد اور غلط فتووں کے ذریعے شیعہ مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں بیان کیا: یہ مفتی دراصل انہیں مفتیوں کی نسل سے ہیں جو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے قتل کو جائز قرار دیتے تھے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی واضح آیات کی روشنی میں جو شخص بھی "لا الہ الا اللہ" پڑھتا ہے اور کلمہ گو کہلاتا ہے اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔


حوزہ علمیہ قم کے استاد اور تہران کے امام جمعہ نے یہ کہتے ہوئے کہ اسلامی تاریخ میں ابن تیمیہ اور اس کے بعد عبدالوہاب وہ پہلے افراد ہیں جنہوں نے شیعوں کے کفر اور انکے قتل کو جائز قرار دینے پر مبنی فتوے جاری کئے ہیں کہا:  وہابیوں کا راستہ قرآنی آیات اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بالکل مختلف ہے ۔


انہوں نے مزید کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں ہر وہ شخص جو دوسرے مسلمانوں پر کفر کا فتوا لگاتا ہے خود کفر سے زیادہ نزدیک ہے، اسی طرح ایک اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آیا ہے کہ جو مسلمان دوسرے مسلمانوں کو کافر کہے وہ خود کافر ہے۔


آیت اللہ سید احمد خاتمی نے بیان کیا: یہ تکفیری مفتی درحقیقت اسلام کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں اور مسلمان ہر گز ان کی خیانت کو نہیں بھولیں گے اور انہیں قیامت کے دن بھی خدا کے حضور جواب دینا پڑے گا۔


انہوں نے شیعہ مسلمانوں کے خلاف اس دہشت گردانہ لہر کا تیسرا بڑا سبب غاصب اسرائیل کو جانا اور کہا: اسرائیل وہابی دہشت گرد گروہوں کی مدد اور ان کی ترویج کے ذریعے اسلام کے خوبصورت چہرے کو مخدوش کرنے کے درپہ ہے اور اسلام کو ایک دہشت گرد مذہب کے طور پر متعارف کروانا چاہتا ہے، اسرائیل چاہتا ہے کہ ان فرقہ وارانہ دہشت گرد گروہوں کے ذریعے عالم اسلام میں مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اتنا کمزور کر دے کہ اس کیلئے کوئی خطرہ ثابت نہ ہو سکیں۔


یاد رہے گذشتہ ہفتے شب ولادت حضرت امام زمان عج اللہ تعالی فرجہ الشریف کی مناسبت سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قریب واقع گاوں الجیزہ میں ایک گھر میں شیعیان اہلبیت علیھم السلام ایک جشن کی تقریب میں شریک تھے جس پر ہزاروں وہابی اور سلفی دہشت گردوں نے دھاوا بول دیا اور معروف شیعہ عالم دین شیخ حسن شحاتہ کو انکے تین دوسرے ساتھیوں سمیت انتہائی بے دردی سے شہید کرنے کے بعد انکے جسم کو اگ لگادی ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬