‫‫کیٹیگری‬ :
13 February 2014 - 17:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6439
فونت
آیت الله مصباح یزدی :
رسا نیوز ایجنسی ـ آیت الله مصباح یزدی نے خدا سے محبت کرنے والوں کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے بیان کیا : دو طرفہ عشق ، مومنوں کے سامنے خاکساری ، مضبوطی ، سازش نہ کرنا اور دشمنوں کے مقابلہ میں تسلیم نہ ہونا یہ خدا سے محبت کرنے والوں کی خصوصیت ہے ۔
آيت الله مصباح يزدي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق امام خمینی (ره) تعلیم و تحقحقی ادارہ کے صدر آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے گذشتہ شب قائد انقلاب اسلامی کی آفس میں سورہ مبارکہ مائدہ کی 54 آیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا : خداوند عالم فرماتا ہے اگر تم دین سے خارج ہو گئے تو یہ میرے لئے اہم نہیں ہے اور اس سے میرا کوئی نقصان نہیں ہوگا ہم دوسری قوم کو تمہارا متبادل قرار دینگے کہ جو تم سے بھی زیادہ اچھے ہیں ۔

انہوں نے اس قوم کی خصوصیت جس کو خداوند عالم نے برتر جانا ہے بیان کیا : ان کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ لوگ خدا سے محبت کرتے ہیں اور خدا بھی ان سے محبت کرتا ہے ، دوسری خصوصیت یہ ہے کہ مومنوں کے سامنے خاکسار ہیں اور کفار کے مقابلہ میں مضبوط دیوار کی طرح ہیں اور کسی بھی صورت میں ان کے ساتھ مل کر سازش نہیں کرتے ہیں اور ان کے سامنے تسلیم نہیں ہوتے ہیں اور ان کی آخری صفت یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کے راہ میں جہاد کرنے کو پسند کرتے ہیں ، اس آیہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا کام کریں کہ خداوند عالم ہم لوگوں سے محبت کرے تو ضروری ہے کہ خود کو اس کے مطابق بنائیں ۔

حوزہ علمیہ قم میں جامعہ مدرسین کے ممبر نے ان صفات کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : «یُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّونَهُ» یعنی دو طرفہ عشق اور یہ مسئلہ بہت اہم ہے ، ان لوگوں کی دوسری نشانی یہ ہے کہ دشمنوں کے سامنے قدرت و مضبوطی کا اظہار کرتے ہیں اور عزت کامل و بی اعتنائی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے گردن اونچی رکھتے ہیں اور بغیر کسی لچک کے بات کرتے ہیں اور ان کے سامنے خضوع نہیں کرتے ہیں ۔

آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے وضاحت کی : اس آیہ اور اسی طرح «أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ» سے مراد عناد رکھنے والے کفار کے ساتھ مقابلہ میں سختی ہے ، جو لوگ عملی طور سے دشمنی و مخالفت کرتے ہیں ؛ اگر ایسا ہو کہ سب لوگ کفار سے دشمنی کریں تو اسلام کی توسیع اچھی طرح نہیں ہو سکے گی ؛ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں بہت سارے کفار اچھے اخلاق کی وجہ سے اسلام کی طرف مائل ہوتے تھے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس اخلاق کے استاد نے اس تاکید کے ساتھ کہ وہ کافر جو عناد نہیں رکھتے ہیں ان کے ساتھ دل سوزی و اچھے سلوک سے پیش آئیں بیان کیا : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو نہیں پہچانا ہے اور ان میں سے بعض افراد وہ ہیں جو ان لوگوں سے جو کافر نہیں ہیں پیش قدم ہیں ؛ قرآن کریم نے زکات کے بعض حصہ کو ایسے افراد کے دلوں کو جذب کرنے کے لئے معین کیا ہے «الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬