‫‫کیٹیگری‬ :
08 June 2014 - 09:58
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6862
فونت
آیت ‌الله علوی گرگانی :
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله علوی گرگانی نے علم کے آفتوں میں سے ایک آفت غرور و غفلت جانا ہے اور بیان کیا : وہ لوگ جو علم کے میدان میں قدم بڑھا رہے ہیں ان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس آفت میں گرفتار نہ ہو جائیں ۔
آيت ‌الله علوي گرگاني


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت ‌الله سید محمد علی علوی گرگانی نے ایران کی ایک یونیورسیٹی کے اساتذہ کے وفد سے ملاقات میں غرور اور غفلت کو علم کے آفتوں میں سے ایک جانا ہے اور بیان کیا : وہ لوگ جو علم کے میدان میں قدم بڑھا رہے ہیں ان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس آفت میں گرفتار نہ ہو جائیں ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : بعض وقت انسان کے علم میں ترقی انسان کے غفلت و غرور میں گرفتار ہونے کا سبب ہوتا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے سورہ مبارکہ حشر کی ایک آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا : خداوند عالم اس سورہ میں انسانوں سے خطاب ہو کر فرماتا ہے کہ کبھی بھی خدا کو فراموش نہ کرو ، تقوا کا خیال کرو اور وہ عمل جو مصیبت کا سبب بنے اس سے پرہیز کرو ۔

حضرت آیت ‌الله علوی گرگانی نے اس دنیا سے آخرت کے لئے زاد سفر حاصل کرنے کی ضرورت کی تاکید کرتے ہوئے وضاحت کی : انسان کو چاہئے کہ دنیا میں کوشش کرے تا کہ آخرت میں اپنے عمل کا نیک و شائستہ نتیجہ دیکھے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ انسان کو چاہیئے کہ وہ اس دنیا میں اپنے اعمال و رویہ کی حفاظت کرے بیان کیا : خداوند عالم فرماتا ہے : انسان کو چاہیئے کہ آج کل کی اپنی زندگی کو وہ اس قدر منظم و منصوبہ کے ساتھ بسر کرے تا کہ آخرت میں کامیابی و خوشی کا سامنا کرنا پڑے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے اس تاکید کے ساتھ کہ خداوند عالم ہمارے اعمال پر شاہد و ناظر ہے بیان کیا : انسان کو اپنی زندگی میں اپنے اعمال کی خود حفاظت کرنی چاہیئے اور اگر وہ یقین کر لے کہ اس کے تمام اعمال زیر نگرانی ہے تو وہ ہمیشہ غلط و ناشائستہ امور سے دوری اختیار کرے گا ۔

حضرت آیت ‌الله علوی گرگانی نے انسان کی طرف سے اپنے نفس کی حساب و کتاب کی ضرورت کی تاکید کی ہے اور اظہار کیا : انسان کو اپنے نفس کی حساب و کتاب اور نیک امور کو انجام دینے کے ذریعہ خود کو آخرت کے لئے تیار کرنا چاہیئے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬