23 July 2016 - 05:09
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 422530
فونت
حجت الاسلام مختار امامی:
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ترجمان نے کہا : ریاست میں بسنے والوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔موجودہ حکومت کو اس میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے۔
حجت الاسلام مختار امامی


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ترجمان حجت الاسلام مختار امامی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا : ۲۲ جولائی ملت تشیع اپنے حقوق کی شناخت کے لیے سڑکوں پر ہو گی۔ کل بروز جمعہ ۲۲ جولائی حجت الاسلام ناصرعباس جعفری کی بھوک ہڑتال کو ۷۰ روز پورے ہو جائیں گے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : اب فیصلہ کیمپ میں بیٹھنے کی بجائے شاہرواں پر ہو گا۔ ملک بھر میں ۷۰ سے زائد شہروں میں احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔

مختار امامی نے بیان کیا : جب تک شیعہ نسل کشی میں ملوث افراد کے خلاف ریاستی و عسکری اداروں کی طرف سے ملک گیر آپریشن کا آغاز نہیں کیا جاتا تک تک مختلف اندازمیں ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا : ماہ رمضان میں کالعدم جماعتوں کی طر ف سے کراچی اور دیگر شہروں میں چندہ اکھٹا کیا جاتا رہا جو قومی سلامتی کے اداروں اور حکومتی رٹ کو سرعام چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ان کالعدم جماعتوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے جو نام بدل کر اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ترجمان نے بیان کیا : سانحہ شکار پور میں ملوث افراد کی رہائی ملت تشیع کے لیے تشویش اور سخت حیرانگی کا باعث ہے۔ ملک میں ہونے والے مختلف سانحات بالخصوص سانحہ چلاس، سانحہ شکار پور، سانحہ بابو سر، سانحہ حیات آباد، سانحہ عاشور اور سانحہ راولپنڈی کے مقدمات کو ملٹری کورٹس میں بھیجا جائے۔

انہوں نے کہا : پاکستان میں موجود تمام مسالک اور مذاہب کو انتہا پسند تکفیری گروہ سے تحفظ فراہم کیاجائے۔ پنجاب حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتیں اور وفاق اپنی شیعہ دشمنی ترک کرے اور بے گناہ عزاداروں کے خلاف انتقامی بنیادوں پر درج مقدمات فورا ختم کیے جائیں۔

مختار امامی نے بیان کیا : جن شیعہ عمائدین کے نام شیڈول فور میں ڈالے گئے ہیں ان کے نام وہاں سے نکالیں جائیں۔ پارہ چنار کرم ایجنسی میں ایف سی اہلکاروں نے بے گناہ مظاہرین کو گولیاں برسا کر شہید کر دیا اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر کمیشن تشکیل دیا جائے۔ پارہ چنار میں لوگوں کی املاک پر زبردستی قبضوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور انتخابی فوائدکے حصول کے لیے وہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل نہ کیا جائے۔

انہوں نے تاکید کی : پاکستان کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کر کے کمزور کیا جا رہا ہے ۔ مسلکی تعصب کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان کے حکمران مخصوص تکفیری گروہ سے دوستی کا حق ادا کررہے ہیں۔ شیعہ سنی پاکستان کے دفاع کی فرنٹ لائن ہیں جنہیں دانستہ طور پر دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

حجت الاسلام مختار امامی نے کہا :پاکستان میں بسنے والوں کو پاکستانیت پر یکجا کرنے کی بجائے لسانیت، فرقہ واریت، صوبائیت اور دیگر تعصبات میں الجھا کر گروہوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ قومی طور پر ہمیں کمزور کر کے ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا سکے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬