21 October 2016 - 23:37
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423978
فونت
حجت الاسلام اعجاز بہشتی:
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماحجت الاسلام اعجاز بہشتی نے کہا: پنجاب میں چند انتظامی افسران ہمارے صبر کو کمزوری سمجھ رہے ہیں ۔
اعجاز حسین بہشتی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپور‌ٹ  کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما حجت الاسلام اعجاز بہشتی نے  ملتان میں مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب اور ضلعی کابینہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: پنجاب میں چند انتظامی افسران ہمارے صبر کو کمزوری سمجھ رہے ہیں ۔

اجلاس میں صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، یافث نوید ہاشمی، محمد عباس صدیقی، ضلعی سیکرٹری جنرل سید ندیم عباس کاظمی، صوبائی ترجمان ثقلین نقوی اور دیگر موجود تھے۔

حجت الاسلام  بہشتی نے ڈی پی او خانیوال کی ایماء پر 25 افراد کو گرفتار کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعلٰی پنجاب، ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور آر پی او ملتان سے فوری رہائی اور ڈی پی او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

علامہ اعجاز بہشتی کا مزید کہنا تھا کہ خانیوال کی ضلعی انتطامیہ جان بوجھ کر مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اعلٰی حکام کو ڈی پی او خانیوال کے اقدامات کا محاسبہ کرنا چاہیے، خانیوال میں 25 افراد کی گرفتاری، چادر و چار دیواری کی بے حُرمتی اور خواتین کے ساتھ ناروا سلوک قابل مذمت ہے، مجلس وحدت مسلمین خانیوال انتظامیہ کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ دائر کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب بھر میں امن اور اتحاد کی فضاء کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، لیکن پنجاب کے چند افسران ہمارے صبر کو کمزوری سمجھ رہے ہیں، علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ ہم آر پی او ملتان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خانیوال میں بے گناہ افراد کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں، ورنہ جنوبی پنجاب بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ عزاداروں پر بنائے گئے مقدمات فی الفور ختم کئے جائیں، وگرنہ حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی، حکومت کو بتا چکے ہیں کہ عزاداری اور عزاداروں کے خلاف کسی سازش کو بھی قبول نہیں کریں گے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا اگر سوموار تک خانیوال انتظامیہ نے گرفتار افراد کو رہا نہ کیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔/۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬