04 November 2016 - 22:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424261
فونت
سید ناصر عباس شیرازی:
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا : دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ملک کی تمام محب وطن سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مشترکہ کوشش کرنا ہوں گی اور اس سلسلے میں کسی تعلق، دباؤ یا مصلحت کو رکاوٹ نہ بننے دینے کا عزم انتہائی ضروری ہے۔
سید ناصر عباس شیرازی

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے بھارتی ہائی کمیشن کے سفارت کاروں کے پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان بارہا سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوچکا ہے، وطن عزیز میں ہونے والی دہشت گردی کے مختلف واقعات میں بھارتی سفیروں کا براہ راست ملوث ہونا ایک ناقابل معافی جرم ہے، بھارت وطن عزیز کی سلامتی و استحکام کا سب سے بڑا دشمن ہے، جس نے ہمیشہ ہمیں نقصان پہنچایا اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کے لئے بے جا پروپیگنڈہ کیا، ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث را کے ان ایجنٹوں کو ناپسندیدہ قرار دے کر محض ملک بدر کر دینا ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی، ان عناصر کو بلا تاخیر تحقیقاتی ایجنسیوں کے حوالے کیا جانا چاہیئے، تاکہ ان کے باقی نیٹ ورک کا بھی مکمل طور پر پتہ لگایا جا سکے۔

انہوں نے کہا : اس سے قبل بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھی حکمرانوں نے ملک و قوم کے مفاد کو مقدم رکھنے کی بجائے انڈیا سے دوستی کا حق ادا کیا، بھارت کے معاملے میں ہمارے حکمرانوں کا عاجزانہ رویہ پوری قوم کی توہین ہے، پاکستان کے ساتھ بھارت کی ازلی دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں، اب لیت و لعل کے بجائے دو ٹوک موقف اختیار کرنے کا وقت ہے، اگر حکومت ملک میں حقیقی امن کی خواہاں ہے تو پھر ان تمام نیٹ ورکس اور مراکز کا خاتمہ کرنا ہوگا جو دہشت گردی کے محرک بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا : پاکستان میں جاری دہشت گردی میں ملوث کالعدم مذہبی جماعتوں اور را کے درمیان تعلقات کے شواہد ماضی میں بھی منظر عام پر آچکے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان جماعتوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ان کے رہنماؤں سے حکومتی وزراء تعلقات استوار کرنے میں مگن رہے، جو کہ دہشت گردی کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ملک کی تمام محب وطن سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مشترکہ کوشش کرنا ہوں گی اور اس سلسلے میں کسی تعلق، دباؤ یا مصلحت کو رکاوٹ نہ بننے دینے کا عزم انتہائی ضروری ہے۔/۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬