27 May 2017 - 14:53
News ID: 428266
فونت
آئی ایس او پاکستان کے یوم تاسیس کے موقع پر؛
ایک الٰہی اور خدائی معاشرہ تشکیل دینے کیلئے جن امور کی ادائیگی مطلوب ہوتی ہے، وہ سب اس شجرہ طیبہ آئی ایس او پاکستان کے پلیٹ فارم سے انجام دیئے جا رہے ہیں، جہاں پر خوبیاں ہیں، یقیناً خامیاں بھی موجود ہیں، بہت سارے تنظیمی امور کو بہتر بنانیکی بہت زیادہ گنجائش باقی ہے، جنکی بہتری کیلئے ہم پرامید ہیں، مگر مجموعی طور خوبیاں اور خدمات زیادہ ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں، جو ہمیں اس شجرہ طیبہ سے جوڑے ہوئے ہیں، تمام برادران و خواہران جو آئی ایس او پاکستان سے منسلک ہیں، انکو اپنے اوپر فخر کرنا چاہئے ۔
آئی ایس او پاکستان

تحریر: حیدر علی

امام خمینی بت شکن کی محنت اور شہداء کے پاک خون کی برکت سے جب انقلاب اسلامی برپا ہوا، جس نے ایک ایسی لہر پیدا کی، جس نے تمام جہان اسلام کو اسلام ناب محمدی کا راستہ دکھایا اور جلد ہی انقلاب کے ثمرات پوری دنیا میں نظر آنے لگ گئے۔ مگر بدقسمتی اس وقت شروع ہوگئی، جب کچھ لوگ تربیت کے بہانے جنگ کے دوران بھی اہلِ قعود بنے رہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے، یہاں تک کہ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ انقلاب آدم خور ہے، جو اپنے ہی بانیوں کو، اپنے ہی بچوں کو نگل جاتا ہے۔ آج بھی وہ لوگ جنھوں نے انقلاب کی اس لہر پر سیکٹینگ کی اور انقلاب کے دوش پر سوار ہوکر خود اپنی پہچان بنائی، انقلاب سے بہت کچھ لیا، مگر انقلاب کو کچھ نہیں دیا سوائے نفرت کے، تقسیم کے اور لوگوں کو انقلابِ اسلامی کے ہی نام پر انقلاب سے دور کرکے اپنی شخصیت کے گرد جمع کرنے کے۔ مگر الحمداللہ پاکستان کی سرزمین پر وہ فرزندانِ انقلاب، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی صورت موجود ہیں، جو اپنی تاسیس سے لے کر آج تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔ پانچ دہائیاں ہونے کو ہیں، کبھی ہدف سے منحرف نہیں ہوئے، کبھی اپنے تشخص یعنی انقلاب اسلامی کو حالات کی سختیوں میں گُم نہیں ہونے دیا۔

جو کبھی اپنی خود سازی کے عمل سے غافل نہیں ہوئے، اپنی تمام تر توجہ رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی امام خامنہ ای حفظ اللہ پر رکھی اور لوگوں کو انہی کا مطیع بنایا ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کچھ چیزوں کی یادہانی ضروری تھی، جو وجہ بنی کہ اُن اہم روشن ابواب کی تکرار کیا جائے، جو اس الٰہی نہضت آئی ایس او پاکستان نے رقم کئے، جو بعض لوگ نظر انداز کرکے اس شجرہ طیبہ پر طرح طرح کے اعتراضات اور الزامات لگا کر آئی ایس او پاکستان سے نوجوانوں کو دور کرنے کی مذموم سازش کر رہے ہیں اور دوسرے اپنے وہ موجودہ دوست جو اس الٰہی نہضت سے وابستہ ہیں، چاہے وہ سابقین ہیں، سینءئرز ہیں یا جونیئر، ان سے ایک شکوہ ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے کارہائے نمایاں وہ روشن پہلو، وہ انقلابی خدمات، جو اس شجرہ طیبہ نے انجام دیں، ان کو اپنے تنظیمی اسٹرکچرز سے باہر عوامی سطح پر بتانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس ناکامی کا خمیازہ ملت کے ان باوفا نوجوانوں کو اس انداز میں بھگتنا پڑ رہا ہے کہ بعض ہمارے نادان دوست اپنے نومولود گروہی مفاد کی خاطر اس شجرہ طیبہ سے متعلق دانستہ طور پر شبہات کر رہے ہیں۔ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ شبہ کو شبہ اس لئے ہی کہتے ہیں کیونکہ یہ حق سے مشابہت رکھتا ہے۔

آج کچھ مقدس مآبوں نے اس شجرہ طیبہ سے متعلق باقاعدہ مذموم منصوبہ کے تحت شبہات ایجاد کئے اور بصیرت سے عاری بعض لوگ اس کا شکار بھی ہوگئے۔ اس کو کمزور کرنے کے لئے بہت سے الزامات اور بہتان لگائے گئے، اس کے مقابلے پر جماعتیں بنائیں گئیں، مگر ان سب مشکلات کی پروا کئے بغیر آئی ایس او پاکستان الحمدللہ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ لٰہذا یہ ذمہ داری ہے سینیئرز اور سابقین کی کہ وہ باقی امور کے ساتھ ساتھ پرچار کریں اپنی ان الٰہی و انقلابی خدمات کا جو پاکستان کی سرزمین پر کوئی اور انجام نہیں دے سکا، وہ خدمات جنھوں نے نوجوانوں کے اس کارواں کو زمانے کے ولی فقہیہ مقام معظم رہبری کا نور چشم بنایا۔

بزرگان جانتے ہیں، جب سرحد کے اس پار انقلاب اسلامی کا اعلان ہونا تھا، اسی شب کو پاکستان میں آئی ایس او پاکستان کے مرکزی دفتر میں شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی نگرانی میں جھنڈے اور پلے کارڈ تیار کئے جا رہے تھے، تاکہ اُدھر انقلاب کا اعلان ہو، اِدھر پاکستان سے انقلاب اسلامی کی حمایت میں ایک بڑے لیول کا مظاہرہ کیا جائے، یہ کتنا بڑا قدم تھا، شاید آج چالیس سال بعد ہم اس کی اہمیت اس طرح محسوس نہ کر پائیں، کیونکہ عالمی طاقتوں امریکہ و روس کی منشاء کے خلاف انقلاب اسلامی کو عالمی سطح پر دیگر ممالک بالخصوص ہمسایہ ملک پاکستان سے عوامی حمایت ملنا ان کے لئے خلاف توقع و حیران کن تھا۔ یہ سہرا بھی اس شجرہ طیبہ آئی ایس او پاکستان کے جوانوں کے سر ہے، جب انقلاب اسلامی کا پہلا دن تھا بلکہ پہلے 14 گھنٹے تھے، اس میں پاکستان سے انقلاب کی حمایت میں مال روڈ لاہور پر شہید ڈاکٹر نقوی کی قیادت میں انقلاب اسلامی سے یکجہتی اور حمایت کی خاطر ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔

انقلاب اسلامی کے کچھ ہی عرصہ بعد جب امام خمینی نے فلسطین کے مظلومین کی حمایت کے لئے یوم القدس منانے کی اپیل کی تو پاکستان کی سرزمین پر یہی امامیہ جوان تھے، جنھوں نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی اور سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے حکم پر پاکستان میں آئی ایس او کے پلیٹ فارم سے یوم القدس کی ریلیوں کی بنیاد رکھی۔ آج بھی زیادہ تر شہروں میں یوم القدس کے جلوس کے روٹ آئی ایس او پاکستان کے نام پر ہیں، یوم القدس کی جب پہلی ریلی لاہور میں نکالی جا رہی تھی تو اس وقت بہت بڑے بڑے علماء نے جوانوں کی بہت زیادہ مخالفت کی، حتٰی کہ مساجد سے اعلان تک ہوئے کہ اس ریلی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، مگر اس وقت خمینی شناس، شہید قائد علامہ عارف حسین برادران امامیہ کی حمایت میں آگے بڑھے اور ناصرف حمایت کی بلکہ خود شرکت بھی کی۔ پھر جب آل سعود نے برات از مشرکین کو روکنے کے لئے ایرانی قوم کے حج ادا کرنے پر پابندی لگائی تو وہ الٰہی فریضہ جسے روکنے کے لئے ملت ایران کو سرزمین حجاز سے بے دخل گیا، اسی فریضے کی ادائیگی کے لئے شہید قائد علامہ عارف حسین نے شہید ڈاکٹر نقوی کو بلا کر فرمایا کہ میں امام خمینی کو زبان دے چکا ہوں، لٰہذا میری یہ گزارش ہے کہ اس بار حج پر برات از مشرکین کرنے کے لئے آپ خود جائیں تو شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے اپنے رفقاء کے ہمراہ رخت سفر باندھا۔ شہید قائد علامہ عارف حسین اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ حج پر برات از مشرکین کا کیا نتیجہ نکلنا ہے، مگر نتیجہ سے بے پرواہ اپنی ذمہ اداری ادا کرنے سرزمین حجاز پہنچے، جہاں پر تاریخی برات از مشرکین کیا اور کلمہ حق کی پاداش میں زندانوں میں ڈال دیئے گئے۔

جب ملت تشیع کے اندرونی و بیرونی دشمنوں نے تشیع کے اصل عقائد کو مسخ کرنے کی مذموم سازش کی اور عزاداری کو مقصد سے ہٹ کر پیش کیا تو پاکستان میں ایک بار پھر ان ہی الٰہی جوانوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے نعرہ حق بلند کیا:

آئِی ایس او کی ہے آواز : مجلس و ماتم اور نماز

با مقصد عزاداری کے لئے محافل اور مجالس کا آغاز کیا اور اسی سلسلہ میں بالخصوص یوم عاشورہ کے موقع پر جلوس روکوا کر اپنے پرائے سب کی مخالفتیں مول لے کر سڑکوں اور شاہراوں پر باجماعت نماز کا آغاز کیا، جو سلسلہ الحمدللہ آج بھی جاری و ساری ہے، بلکہ پہلے سے زیادہ پھیل چکا ہے، اسطرح سے عبادات و مناجات کا ایک اجتماعی سلسلہ شروع ہوا۔ شروع میں ایک کمی جو محسوس کی گئی کہ پاکستان میں انقلابی علماء کی تعداد بہت کم تھی، لٰہذاء ضروری تھا کہ بامقصد مجلس و عزاداری اور انقلابی فکر کی تراویج کے لئے انقلابی علماء ہوں، جو انقلابی فکر اور اسلام ناب کی تبلیغ کریں۔ ملت جعفریہ پاکستان کی اس ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے آئی ایس او کے سابقین کی ٹیم کو قم میں تحصیل علم کے لئے بھیجا، وہ افراد عالم دین بن کر پاکستان آئے تو ملک میں ناصرف انقلابی علماء کی تعداد میں اضافہ ہوا بلکہ ان افراد نے انقلابی مدارس بنانا شروع کر دیئے جو الحمدللہ اب اپنے ثمرات ملت تک پہنچا رہے ہیں۔

اسی طرح جب دفاع مقدس، آٹھ سالہ جنگ کا وقت آیا تو عمائدین ملت ابھی موقف دینے کے لئے مشاورت کر رہے تھے، شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اپنے امامیہ جوانوں کے ہمراہ ادویات کی کھیپ لے کر محاذ پر پہنچ بھی چکے تھے، ادھر محاذ پر رہ کر کافی عرصہ مجاہدین کی خدمت کرتے رہے۔ اگر بات شہداء اور اسیران کی کریں تو ملت کے پاکیزہ ترین شہداء جن کے بارے قرآن نے کہا ہے: قُل لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ترجمہ: اگر تم گھروں میں بھی رہ جاتے تو جن کے لئے شہادت لکھ دی گئی ہے، وہ اپنے مقتل تک بہرحال جاتے۔ اپنے قدموں سے چل کر اپنی مقتل کو جانے والے یعنی آگاہانہ شہادت اختیار کرنے والے ویسے تو تمام شہداء فضیلت کے حامل ہیں، مگر قرآن نے ایسے شہداء کو زیادہ فضیلت دی ہے، جو آگاہانہ طور پر راہ خدا میں شہید ہوئے ہیں، ایسے شہداء کی تعداد بہت کم ہے۔ ایسے درجنوں شہداء، جنھوں نے آگاہانہ شہادت حاصل کی اور لقاء اللہ کی منزل تک پہنچے، ان میں زیادہ تر اسی انسان ساز فیکٹری آئی ایس او پاکستان کے تربیت یافتہ تھے، جن میں سالار شہداء پاکستان شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کے علاوہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی، شہید علی ناصر صفوی، شہید راجہ اقبال، شہید تنصیر حیدر، شہید ڈاکٹر قیصر، شہید مظفر کرمانی اور شہید مجتبٰی سعیدی قابل ذکر ہیں۔ یہ وہ چند کارہائے نمایاں ہیں، علاوہ دیگر جو پاکستان کی سرزمین پر کسی اور نے انجام نہیں دیئے، جن کی توفیق فقط برادران امامیہ کے ہاتھ آئی۔

ایک الٰہی اور خدائی معاشرہ تشکیل دینے کے لئے جن امور کی ادائیگی مطلوب ہوتی ہے، وہ سب اس شجرہ طیبہ آئی ایس او پاکستان کے پلیٹ فارم سے انجام دیئے جا رہے ہیں، جن کی بنا رہبر مسلمین جہاں نے آئی ایس او کو اپنی آنکھوں کا نور قرار دیا ہے۔ جہاں پر خوبیاں ہیں، یقیناً خامیاں بھی موجود ہیں، بہت سارے تنظیمی امور کو بہتر بنانے کی بہت زیادہ گنجائش باقی ہے، جن کی بہتری کے لئے ہم پرامید ہیں، مگر مجموعی طور خوبیاں اور خدمات زیادہ ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں، جو ہمیں اس شجرہ طیبہ سے جوڑے ہوئے ہیں، تمام برادران و خواہران جو آئی ایس او پاکستان سے منسلک ہیں، ان کو اپنے اوپر فخر کرنا چاہییے اور یوم تاسیس کے موقع پر زمانے کے امام حضرت امام مہدی علیہ السلام سے اور ان کے نائب برحق امام خامنہ ای حفظ اللہ سے اور شہداء امامیہ کے خون سے عہد کرنا چاہییے کہ ان شاء اللہ حق کی اس راہ میں ہم کبھی اس شجرہ طیبہ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائیں گے۔ ان شاء اللہ ۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬