14 June 2017 - 20:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428545
فونت
آئی ایم یو سی:
نئی دہلی سے جاری اپنے ایک بیان میں مسلم یونٹی کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطابق اس بات پر عمل کریں کہ مظلوم قوموں کی خاموش تماشائی بنے کے بجائے مظلوم کا ساتھ دینا ہے جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
فلسطینی ریاست

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل نے محصور فلسطینیوں پر صیہونی اسرائیل کے وحشیانہ اور غیر قانونی رات و دن ڈھائے گئے مظالم کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔ انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کے سکریٹری جنرل جاوید عباس رضوی نے کہا کہ حالیہ ایام میں جھوٹے و بے بنیاد الزامات لگا کر فلسطینی نوجوانوں اور بچوں کی قتل وغارت کرکے اسرائیلی افواج نے مطالم و بربریت کی تمام حدود ہی پار کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ فلسطینیوں کے قتل و غارت، ان کی بستیوں کو مسمار کرنا، ان کی آواز کو دبانا، مرد، عورتوں، بوڑھے یہاں تک کہ بچوں کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں قید کرنا، یہ سب دنیا کی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے لیکن وہ اور اقوام متحدہ اس پر نوٹس نہیں لے رہے ہیں۔ جاوید عباس رضوی نے کہا کہ اس سے زیادہ تکلیف دہ یہ بات ہے کہ مسلمان قوموں کی ایک مضبوط اور متحد آواز کہ جو مذہبی عقیدت اود نیک ارادوں پر مشتمل ہونی چاہیے، کی غیر موجودگی بھی ان مظالم کی خاص وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو متحد و یکسو ہوکر قبلہ اول کی آزادی کے لئے کوشش کرنی چاہیے اس کی برعکس مسلمان ملک اس طرح بکھر گئے ہیں، وہ متحد ہونے کے بجائے ایک دوسرے سے جنگ کر رہے ہیں، جس سے مسلمان اور بھی کمزور ہو رہے ہیں۔ فلسطینیوں نے رات و دن ہر ممکن کوشش کرکے ان مظالم کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے مگر بدقسمتی سے عالمی برادری اس حوالے سے کوئی مثبت رول نہیں نبھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سیاست اور اقتدار کی بڑی مچھلیاں جیسے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جاپان وغیرہ جو بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی اس خلاف ورزی پر اسرائیل کا ساتھ دیتی ہیں بلکہ ان کی مدد بھی کر رہے ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں مسلم ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ متحد ہو کر اسرائیل کے بیت المقدس پر جبری قبضے کو ختم کرنے کی تدبیر کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک موثر حکمت عملی اپنائیں جس سے مظلوم فلسطینیوں کی مدد آوری ہوجائے اور دہائیوں سے چلنے والی یک طرفہ اور مسلح اسرائیلی جارحیت اختتام پذیر ہو۔

ادھر نئی دہلی سے جاری اپنے ایک بیان میں مسلم یونٹی کونسل کے چیئرمین حجت الاسلام سید تقی رضا عابدی نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطابق اس بات پر عمل کریں کہ مظلوم قوموں کی خاموش تماشائی بنے کے بجائے مظلوم کا ساتھ دینا ہے جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہر سازش کا متحد ہو کر سامنا کریں۔ مسلمانوں کے پاس متحد و یکسو ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے جس سے وہ فلسطین کی آزادی اور اسلام کی مشکل کشائی کرسکے۔ مولانا تقی رجا عابدی کے مطابق ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو ’’یوم قدس‘‘ کے طور پر منانا ان مقاصد کی راہوں کو ہموار کرتا ہے۔ فلسطین کی مقدس سرزمین تمام مسلمانوں کے لئے یکساں طور پر عزیز اور محبوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایک ساتھ مل کر صدیوں سے چلی آرہی اسرائیل کے جارحانہ قبضے کے خلاف آواز اٹھائیں اور وہ یہ بھی جان لے کہ جس دن فلسطین کا مسئلہ حل ہوگا اس دن باقی ساری وہ مشکلات جو مسلمانوں کو درپیش ہیں انہیں حل کرنا آسان ہوجائے گا۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬