29 January 2018 - 14:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 434817
فونت
اقوام متحدہ میں امریکی مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کے رکن ملکوں کے سفیروں کو ایرانو فوبیا پالیسی کو جاری رکھنے کی دعوت دی ۔
امریکا کا پرچم

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں امریکہ کے نمائندہ دفتر کے جاری کردہ پروگرام کے مطابق سلامتی کونسل کے رکن چودہ ممالک کے نمائندے امریکی مندوب کے ہمراہ پیر کے روز ایناکوسٹا بولنگ نامی اس چھاؤنی کا دورہ کریں گے جہاں گزشتہ ماہ نکی ہیلی نے لوہے کا ٹکڑا دکھا کر ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر کیے جانے والے میزائل حملے میں یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں ریاض کے نواح میں واقع ملک خالد ایئر بیس پر دور مار بیلسٹک میزائل کے حملے کے بعد، اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے لوہے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ یہ ریاض پر داغے جانے والے ایرانی ساختہ میزائل کا ڈھانچہ ہے اور اس طرح انھوں نے تہران پر سلامتی کونسل کی قرار داد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

امریکی سفیر کے اس ڈرامے کے تھوڑی ہی دیر کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ڈپٹی ترجمان فرحان حق نے باضابطہ طور پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اس دعوے کے بارے میں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جو اس میزائل کے بنانے والے ملک کا تعین کر سکے۔

سرکردہ یمنی صحافی اور تقارب ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالرحمن الراجح کا کہنا ہے کہ امریکہ اس ڈرامے سے کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے جس میں ایک جانب سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کی شکل میں غنڈہ ٹیکس وصول کرنا، تہران پر دباؤ بڑھانا اور یمن میں انسانی المیے سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانا شامل ہے کیونکہ امریکہ، سعودی عرب کے جنگی جرائم میں برابر کا شریک ہے۔

ایران کی جانب سے یمن کے لیے میزائلوں کی ترسیل کا امریکی دعوی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پچھلے تین برس کے دوران سعودی عرب اور امریکہ نے ملکر یمن کا سخت ترین محاصرہ کر رہا ہے۔

سعودی اور امریکی اتحاد نے یمن کا بری، بحری اور فضائی محاصرہ کر کے انسانی امداد اور دواؤں کی ترسیل کو ناممکن بنا رکھا ہے لہذا ایسی صورتحال میں میزائل کی ترسیل یا اسمگلنگ، کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟

سعودی عرب نے امریکہ کی ایما پر پچھلے تین برس سے یمن کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور کئی لاکھ لوگوں کو اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬