28 February 2018 - 12:53
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 435190
فونت
اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرار داد پاس کروانے میں ناکامی کے بعد امریکا، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے خلاف اپنے بے بنیاد دعوں کا ایک بار پھر تکرار کیا ہے۔
مغربی دنیا

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے دعوی کیا ہے کہ ایران، یمن کے لئے اسلحے کی سپلائی پر پابندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اس بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران کے اقدامات علاقے کے امن و استحکام کے لئے خطرہ اور تشویشناک ہیں۔

امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اپنے مشترکہ بیان میں دعوی کیا ہے کہ بائیس جولائی اور چار نومبر دو ہزار سترہ کو یمنی افواج نے سعودی عرب پر جو میزائل داغے تھے، وہ بقول ان کے ایران نے دیئے تھے۔

چار مغربی ملکوں کا یہ مشترکہ بیان ایسی حالت میں جاری ہوا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات برطانیہ کی مجوزہ ایران مخالف قرار داد پاس نہیں ہو سکی۔ پیر کی رات اقوام متحدہ میں برطانوی نمائندے نے سلامتی کونسل میں جو قرار داد پیش کی تھی اس میں یمن پر سعودی جارحیت  کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا اور ایران پر یمن کے تعلق سے بے بنیاد الزام لگایا گیا تھا۔

یہ قرار داد روس نے ویٹو کر دی تھی۔ اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے ویسیلی نبزیا نے اس موقع پر بحران یمن کے تعلق سے ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بحران یمن سے، بغیر کسی اطلاع اور ثبوت کے کسی ملک پر الزام لگانے کے لئے ایک سیاسی حربے کے طور پر کام نہیں لینا چاہئے۔

برطانیہ نے جنگ یمن کے تعلق سے ایران مخالف قرارداد امریکا کی مدد سے تیار کی تھی۔ امریکا نے اس سلسلے میں یورپی ملکوں کی جانب سے ایران مخالف مہم شروع کئے جانے کی کوشش کے ساتھ ہی عرب ملکوں سے بھی مشاورت شروع کر دی ہے۔

 رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان  اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زائد آل نہیان سے ٹیلیفون پر تبادلہ خیال کیا۔

 وائٹ ہاؤ‎س کے بیان کے مطابق ان دونوں شہزادوں سے ٹیلیفونی گفتگو میں امریکی صدر نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ایران مخالف اقدامات کی قدردانی کی ہے۔

 جنگ یمن کے تعلق سے ایران کے خلاف مغربی اور رجعت پسند عرب حکومتوں کی مہم میں ایسی حالت میں تیزی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یمن پر سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیت تین سال سے جاری ہے۔

 اس جارحیت میں اب تک کم سے کم تیرہ ہزار عام شہری شہید اور دسیوں ہزار  زخمی  ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں  اور دسیوں لاکھ بے گناہ یمنی بے گھر ہو چکے ہیں۔

 اس درمیان انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیمیں اسلحے کی سپلائی کے ذریعے اس جارحیت میں سعودی حکومت کے ساتھ مغربی ملکوں بالخصوص برطانیہ کی معاونت پر بارہا تنقید کر چکی ہیں۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ یمن کے تعلق سے مغربی اور بعض عرب حکومتوں کی ایران مخالف مہم میں تیزی کی اصل وجہ، اس خطے میں، ان کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی شکست میں ایران کا بنیادی کردار ہے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰ 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬