02 March 2020 - 16:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442212
فونت
دہلی کے حالیہ فسادات پر پیر کو ہندوستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ کو ذمہ دار قراردیتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ کے استعفے کی مانگ کی .

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی پارلیمنٹ میں بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن دونوں ایوانوں میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے دہلی فسادات کا ذمہ دار مرکزی حکومت کو قراردیتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کیا اور ہنگامہ کیا -

ایک موقع پر کانگریس اور بی جے پی کے ارکان کے درمیان لوک سبھا میں دھکا مکّی کی بھی نوبت آگئی - حزب اختلاف کے ارکان اپنے ہاتھوں میں ایسی تختیاں اٹھائے ہوئے تھے جن پر دہلی فسادات پر مرکزی حکومت کی خاموشی کی مذمت میں نعرے درج تھے - ہنگامے کے بعد اجلاس کی کارروائی ملتوی کردی گئی -

ادھر ایوان بالا راجیہ سبھا میں بھی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جب دہلی میں فسادات ہورہے تھے تب مرکزی حکومت سورہی تھی - کانگریس نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بیان دیں اور وزیرداخلہ امت شاہ فوری طورپر استعفادیں -

اجلاس کی کارروائی سے پہلے کانگریس ٹی ایم سی اور عام آدمی پارٹی کے ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں مہاتما گاندھی کی یادگار کے پاس احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین مرکزی حکومت سے مطالبہ کرہے تھے کہ وہ دہلی فسادات پر بیان دے اس درمیان ترنمول کانگریس کے کئی ارکان نے آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ کر اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر پارلیمنٹ کے احاطے میں مظاہرہ کیا -

لوک سبھا میں کانگریس کے پارلیمانی لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ جب دہلی جل رہی تھی اس وقت وزیرداخلہ امت شاہ احمدآباد میں امریکی صدر ٹرمپ کے استقبالیہ پروگرام نمستے ٹرمپ میں لگے ہوئے تھے انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی فسادات کی جانچ ہونی چاہئے - دوسری جانب اشتعال انگیز تقریریں کرنے والے بی جے پی کے لیڈوں کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر سپریم کورٹ بدھ کو سماعت کرے گی -

دہلی کے فسادات سے متاثرہ متعدد افراد اور وکیل ہرش مندر نے یہ دراخواستیں دائر کی ہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم ایسے معاملے کو نہیں روک سکتے ۔ اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے پر سماعت تیرہ اپریل تک ملتوی کردی تھی - درخواست گزاروں نے کہا کہ لوگ مارے جارہے ہیں اس لئے اس طرح کے معاملے کی جلد سماعت ہونی چاہئے -/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں